٭…پانچواں پہلو:
مصیبت کاثواب مصیبت سے بہت زیادہ ہے۔دووجہ سےدنیاوی مصیبتیں راہِ آخرت کے لئے معاوِن ہوتی ہیں:
٭…پہلی وجہ :مریض کے لئے ناپسندیدہ دوا نعمت ہوتی ہے اور بچے کوکھیلنےکودنے سے دوررکھنااس کے لئے نعمت ہے کیونکہ اگر اسے ہر وقت کھیلنے دیاجائے تویہ اسےعلم و ادب کے حُصول سے روک دے گا یوں وہ ساری عمرخسارہ اٹھائے گا۔اسی طرح مال، اہل وعیال ، عزیزواقارب ،جسمانی اعضاء بالخصوص آنکھ جو سب سے زیادہ معزز سمجھی جاتی ہے یہ تمام بعض اوقات انسان کی ہلاکت کا باعث بنتے ہیں بلکہ عقل جو سب سے قیمتی شےسمجھی جاتی ہے بعض اوقات یہ بھی ہلاکت کا باعث بنتی ہے جیساکہ بے دین لوگ بروزِ قیامت تمنا کریں گے کہ کاش ! ہم پاگل یا بچے ہوتے ہیں اور دِیْنِ خُداوندی میں اپنی عقلوں کو استعمال نہ کرتے۔
ان اسبابِ آزمائش میں سےجس بھی سبب کا بندے کوسامناہو اس کے متعلق یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اسی میں اس کی دینی بھلائی ہےلہٰذا اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بارے میں حُسْنِ ظن رکھنا چاہئے اور جومصیبت پہنچے اسےاپنےحق میں بہترخیال کرکے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرناچاہئے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حکمت وسیع ہے،بندوں کے لئےکیااچھاہے وہ ان سے زیادہ جانتا ہے ۔لوگ بروز ِقیامت مصیبتوں پر ملنے والے ثواب کو دیکھیں گے تو شکر ادا کریں گے جس طرح بچہ جوان ہونے کے بعد اپنے استاذ اور ماں باپ کا شکریہ ادا کرتا ہے کہ انہوں نے ادب سکھانے کے لئےاسےسزادی جس کا پھل اسےاس وقت مل رہا ہے۔مصیبت وآزمائش بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے تادیب اور عنایت ہےاور ربّ کی عنایت توماں باپ کی عنایت سے بڑھ کرہے ۔
سَیِّدِعالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت بابرکت میں کسی نے عرض کی: مجھے نصیحت فرمائیے۔ارشادفرمایا:”لَا تَتَّھِمِ اللہ فِیْ شَیْ ءٍ قَضَاہُ اللہ عَلَیْکَ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تیرے بارے میں جو لکھ دیا اس پر اسے تہمت نہ لگا۔“(1)
ایک مرتبہ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آسمان کی طرف دیکھ کرتبسم فرمایا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الرضاعن اللہ،۱/ ۳۹۳،حدیث:۵