Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
380 - 882
اِنَّمَا نُمْلِیۡ لَہُمْ لِیَزْدَادُوۡۤا اِثْمًا ۚ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۷۸)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم تو اسی لیے انہیں ڈھیل دیتے ہیں کہ اور گناہ میں بڑھیں۔
	جہاں تک گناہوں کا تعلق ہے تو آپ یہ کس طرح جان  لیں گے کہ دنیا میں فلاں شخص فلاں سے زیادہ گناہ گارہےکیونکہ بہت سے لوگوں کے دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کی صفات کے مُعاملے میں بے ادبی کرکے شراب نوشی،زنا کار ی اور دیگر گناہوں سے بڑے گناہ کااِرْتکاب کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: 
وَّ تَحْسَبُوۡنَہٗ ہَیِّنًا ٭ۖ وَّ ہُوَ عِنۡدَ اللہِ عَظِیۡمٌ ﴿۱۵﴾ (پ۱۸،النور:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان:(تم) اسے سہل سمجھتے تھے  اور وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات ہے ۔
	لہٰذا  آپ نےکیسے سمجھ لیاکہ دوسروں کے گناہ  آپ سےزیادہ ہیں؟کیاپتاانہیں آخرت میں سزادی جائے اور آپ کودنیا ہی میں  سزا دی جارہی ہو۔آپ اس نعمت پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر  کیوں  نہیں کرتے؟
٭…تیسرا پہلو: 
	یہی شکر کا تیسرا پہلو ہے کہ آپ کی سزا آخرت تک مُؤَخَّر نہیں کی گئی پھر یہ کہ دنیا وی مَصائب بعض اسباب ِتسلی سے کم ہو جاتے ہیں تو مصیبت کا اثر بھی ہلکا ہوجاتاہےجبکہ اُخروی سزا اورآزمائش دائمی ہے ۔اگر دائمی نہ  رہے تو بھی کسی تسلی کے ذریعے اس میں کمی نہیں ہوگی کیونکہ اُخروی عذاب میں مبتلا لوگوں کے لئے تسلی کاکوئی سبب باقی نہ رہا۔
 	یادرہے!جسے دنیا میں سزا دے دی گئی اسےآخرت میں دوبارہ سزا نہیں دی جائے گی کیونکہ رحمَتِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں:”بندہ اگر کوئی گناہ کرے پھر اسے دنیامیں کوئی تکلیف یا مصیبت پہنچ جائے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے دوبارہ سزا نہیں دے گا۔“(1)
٭…چوتھا پہلو:
	یہ مصیبت و تکلیف توبندے  کے لئےلوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی تھی جو لازماًاس کوپہنچنی تھی ۔جب دنیا میں پہنچ چکی اور اس نے اس کے بعض یا کل سے فراغت وراحت حاصل کرلی تو یہ اس کے حق میں نعمت ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الترمذی،کتاب الایمان،باب ماجاء لایزنی الزانی وھومومن،۴/ ۲۸۴، حدیث: ۲۶۳۵