Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
38 - 882
نیکی گناہ مٹادیتی ہے:
	اسی لئے حضوررحمتِ عالَم،نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرما یا:’’اَتۡبِعِ السَّیِّئَةَ الۡحَسَنَةَ تَمۡحُھَا یعنی بدی کے بعد نیکی کرلویہ اسے مٹا دے گی۔‘‘(1)
	اوراسی لئے حکمت ودانائی کے پیکر حضرت سیِّدُناحکیم لقمانرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے کو یہ نصیحت فرمائی:”بیٹا! توبہ میں تاخیر نہ کرنا کیونکہ موت اچانک آتی ہے۔“
دو بڑے خطرے:
	جو بندہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہوئے تو بہ کی طرف نہیں بڑھتااسے دو بڑے خطرے درپیش رہتے ہیں: پہلا خطرہ یہ کہ اس کے دل پر گنا ہوں کی سیاہی تہہ در تہہ جمتی رہتی ہے حتّٰی کہ زنگ سارے دل کو گھیر لیتاہے اور گناہ عادت وطبیعت بن کر رہ جاتا ہے اور پھر وہ صفائی کو قبول نہیں کرتا۔ دوسرا خطرہ یہ کہ اسے بیماری یا موت آگھیرے اور وہ گناہ کے ازا لے کی مہلت نہ پاسکے۔ اسی لئے روایت میں آیا ہے کہ’’اِنَّ اَکۡثَرَ صِیَـاحِ اَھۡلِ النَّارِ مِنَ التَّسۡوِیۡف یعنی دوزخیوں کی زیا دہ چیخ و پکا ر توبہ میں ٹال مٹول کے سبب ہوگی۔‘‘
	معلوم ہوا کہ جو بھی ہلا کت سے دوچار ہوگا ٹال مٹول ہی کی وجہ سے ہوگا۔ توایسے بندے کااپنے دل کو سیاہ کر نا نقدکاسودا ہے جبکہ اطاعت کرکے اسے روشن کرنا اس کے حق میں اُدھا رکا معاملہ ہوتا ہے یہا ں تک کہ اسے مو ت اُچک لیتی ہے اور بارگاہِ الٰہی میں سلامتی سے خالی دل لے کر پیش ہوتاہےحالانکہ نجات صرف اسے ملے گی جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حُضورسلامت دل لے کرحاضرہو۔ الغرض دل،زندگی اور اطاعت وفرمانبرداری کے تمام اَسباب بند ے کے پاس اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اَمانت ہیں۔ تو جو شخص امانت میں خیانت کرے پھر اس کا اِزالہ بھی نہ کرے اس کا معاملہ خطرناک ہے۔
بندے کے پاس دوراز:
	ایک عارِف بِاللہ بُزرْگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشادفرمایا:بندے کے پاس اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دو راز ہوتے ہیں جنہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بندے کی طرف اِلہا م فرماتا ہے: ایک یہ کہ جب وہ اپنی ما ں کے پیٹ سے باہر آتا ہے تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث معاذ بن جبل،۸/ ۲۴۵، حدیث : ۲۲۱۲۰