کربھیجا کب تک شکرکروں ؟اس سے بڑی مصیبت کیا ہوسکتی ہے؟ بُزرگ دوست نے جواب لکھا: اگر مجوسی کی کمرمیں بندھازُنّارتمہاری کمر میں ہوتا تو تم کیا کرتے؟
تبصرۂ امام غزالی:
انسان کو جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اگروہ اس بات میں خوب غور وفکرکرے کہ اس سےاپنے مالک ومولی عَزَّ وَجَلَّ کی ظاہری وباطنی اعتبار سےبے ادبی ہوئی ہے تو ضرور جان لے گا کہ وہ ابھی یا آئندہ اس سے بھی زیادہ مصیبت کا مستحق ہےلہٰذا جسےسو کوڑےمارنےکاحق حاصل ہومگروہ آپ کودس کوڑے مارے تو آپ کے شکریہ کا مستحق ہے اسی طرح مستواس اسی طرح جسےآپ کے دونوں ہاتھ کاٹنےکاحق حاصل ہو لیکن وہ ایک ہاتھ کاٹے تو وہ بھی آپ کےشکر یہ کا مستحق ہے۔
حکایت:راکھ ڈالناتونعمت ہے
منقول ہے کہ ایک بزرگ سڑک سےگزررہے تھے کہ ان کےسر پر راکھ کا ایک تھال گرادیا گیا ۔ وہ بارگاہِ خداوندی میں سجدہ شکر بجالائے ۔ سجدہ کرنےکی وجہ پوچھی گئی توفرمایا :میں تو آگ کامُنْتَظِر رہتا تھااس کی جگہ راکھ کا ڈالنا نعمت ہے۔
شکر کا انوکھاانداز:
کسی بزرگ سے پوچھا گیا:بارش نہیں ہورہی کیا آپ نمازِاِسْتِسْقاء کے لئے باہر نہیں جائیں گے؟انہوں نے فرمایا:تم سے تو بارش روکی گئی ہے اور مجھ سے تو پتھر روکے گئے ہیں۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
اگر تم یہ کہوکہ میں کیسے خوش ہوجاؤں حالانکہ میں لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ ان کے گناہ مجھ سے بھی زیادہ ہیں اور جس مصیبت کا میں شکار ہوں لوگ اس کا شکار نہیں حتّٰی کہ کافر بھی نہیں ؟
جواب: کافروں کے لئے تو بہت زیادہ مصیبتیں ہیں جوکہ پوشیدہ ہیں ، انہیں ڈھیل اس لئے دی گئی ہے تاکہ ان کےگناہ بڑھتے جائیں اورعذاب زیادہ ہوجیساکہ ارشاد ِ خداوندی ہے: