٭…دوسرا پہلو:
یہ تصور کرے کہ ممکن تھا کہ اس کے بدلے کوئی دینی مصیبت ہوتی(لہٰذا دینی مصیبت نہ ہونے پر شکر بجالائے )۔
منقول ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہتُستریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے کہا:چور میرے گھر میں داخل ہوا اورسامان لے کر چلا گیا۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرو اگر شیطان تمہارے دل میں داخل ہوکرایمان لُوٹ لیتاتوکیا کرتے ؟
اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوحُ اللہعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے يوں دعا کی: اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ مُصِیْبَــتِیْ فِیْ دِیْنِیْیعنی اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میرے دین میں کوئی مصیبت پیدا نہ کرنا۔
ہر مصیبت میں چار نعمتیں :
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھےجس مصیبت میں بھی مبتلاکیااس میں مجھ پر چارنعمتیں تھیں:(۱)… وہ آزمائش میرے دین میں نہ تھی(۲)…اس سے بڑھ کر مصیبت نہ آئی (۳)…میں اس پر راضی ہونے کی دولت سے محروم نہ ہوا(۴)… مجھے اس پرثواب کی امید رہی ۔
حکایت: ایک بزرگ اورقیدی دوست
کسی بزرگ کا ایک دوست تھاجسے بادشاہ نےقید کردیا اس نے اپنے دوست کو اِطِّلاع دی اور شکوہ بھی کیا۔ انہوں نے پیغام بھجوایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کرو۔بادشاہ نے اسے سزا دی اس نے پھر اپنے دوست کو اطلاع دی اور شکوہ کیا تو انہوں نے پھرپیغام بھجوایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرو۔اسی دوران دَسْت کی بیماری میں مبتلاایک مجوسی کو لایاگیا اور اس کےساتھ قید کردیا گیابیڑی کا ایک کَڑا اس کے پاؤں میں تھا تودوسرا کڑا مجوسی کے پاؤں میں۔اس نےپھرپیغام بھیجا تو دوست کا جواب ملا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر کرو۔ مجوسی کو قضائے حاجت کےلئے کئی بار اٹھنا پڑتاتواسے بھی مجبوراً ساتھ اٹھنا پڑتااورمجوسی کے فارغ ہونےتک اس کے ساتھ ٹھہرنا پڑتا۔قیدی دوست نےیہ سب لکھ کر دوست کو بھیجا توجواب ملا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرو۔قیدی دوست نے لکھ