Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
377 - 882
 نہیں کرتےکیونکہ  دھوپ عام وخاص سب کے لئے ہوتی  ہے۔یونہی آسمان کی زینت دیکھ کرخاص مسرت ظاہرنہیں کی جاتی حالانکہ وہ انتہائی جِدّوجہْد سے تعمیرکئےجانےوالےدنیاوی باغوں سے بھی  زیادہ خوبصورت ہے لیکن چونکہ اس کی خوبصورتی  عام ہے اسی لئے لو گ اس سےواقف نہیں اور نہ ہی نعمت سمجھ کر خوشی کااظہارکرتے۔لہٰذا ہم نے جو کہا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے  ہر چیز میں حکمت رکھی ہے اور ہر چیز کو نعمت بنایا ہےبالکل صحیح ہےاب یہ نعمت تمام افراد پر ہو یا  بعض افراد پر ۔اسی طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مصیبت کو بھی نعمت بنایا ہے اب یہ نعمت  مصیبت زدہ پر ہو یا کسی اور پر۔ لہٰذا ہر وہ حالت جسے نہ تو مطلق مصیبت کہا جاسکے اور نہ مطلق نعمت تو اس میں صبرو شکر دونوں ایک ساتھ جمع ہوسکتے ہیں۔  
ایک سُوال اور اس کا جواب:
	صبروشکردونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں یہ کس طرح ایک ساتھ جمع ہوسکتے ہیں کیونکہ صبرتو غم پر ہوتا ہےجبکہ شکرخوشی پر؟جواب:جان لیجئے ! انسان کبھی کسی  چیزسےایک طرح سےخوش ہوتاہےتو دوسرے اعتبارسے غمگین اور غم کی حیثیت کو دیکھاجائے توصبرکی صورت ہوگی اورخوشی کی حیثیت کودیکھاجائےتوشکرکی صورت ہوگی ۔
مصیبت پر شکرکرنے کے پانچ  پہلو:
	دنیاوی مصیبتیں  مثلاًتنگدستی ،بیماری،خوف وغیرہ میں پانچ پہلو ہیں۔عقل مند انسان کو ان پر خوش رہ کر شکر بجالانا  چاہئے۔
٭…پہلا پہلو:
	ہرمصیبت اور بیماری کے بارے میں اس طرح تصور کرے کہ اس سے بھی بڑھ کر بیماری اور مصیبت موجود ہےکیونکہ بے شمارچیزیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت کے تحت  داخل ہیں۔ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں اضافہ کردے توکیا وہ اسے روک  سکتاہے دور کرسکتاہے؟پس اسے شکر کرنا  چاہئے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس سے بڑی  مصیبت وبیماری نہیں بھیجی۔