چُھپے ہوئےخیالات سے لاعلمی بھی انسان کے لئے نعمت ہے کیونکہ پردہ اٹھنے اور ان باتوں پر مُطَّلَع ہونے کی صورت میں دکھ ، کینہ، حسد اور جذبَۂ انتقام پیداہوگا۔ اسی طرح لوگوں کی بُری صفات سے لاعلم ہونابھی نعمت ہے کیونکہ اگران باتوں سےکسی کو آگاہی حاصل ہوجائےتووہ ایسےلوگوں سے بغض رکھے گااورانہیں اذیت پہنچائے گایوں اس کی دنیا اور آخرت بربادہوجائےگی بلکہ بعض اوقات دوسروں کی اچھی صفات سے لا علمی بھی نعمت میں داخل ہوتی ہے کیونکہ بعض اوقات وہ اچھی صفات والااللہ عَزَّ وَجَلَّ کاولی ہوتاہے حالانکہ لوگ اسے ایذا پہنچاتے اور اس کی توہین کرتے ہیں۔اگراذیت پہنچانےوالااُسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ولی جاننے کے باوُجود اذیت پہنچائےتویہ یقیناً بہت بڑا گناہ ہےکیونکہ جاننے کے باوجود کسی نبی یا ولی کو اذیت پہنچانےوالا انجانے میں اذیت پہنچانےوالے شخص کی طرح نہیں ہوتا۔
چندپوشیدہ نعمتوں کی حکمت :
اللہ عَزَّ وَجَلَّنےقیامت کادن، شَبِّ قدر،یومِ جُمعہ کی قبولیت کی گھڑی اوربعض کبیرہ گناہوں کو پوشیدہ رکھا یہ سب بھی نعمتیں ہیں کیونکہ ان سے لا علمی کی وجہ سےان میں رغبت اور کوشش زیادہ ہوتی ہے۔
غورکیجئے!جب ان نعمتوں کاعلم نہ ہونے میں یہ حکمتیں اوروُجوہات ہیں تو علم کی صورت میں کیاحال ہوگا؟ہماراقول کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پیدا کردہ ہر چیز نعمت ہےاسی اعتبار سے تھا جو کہ بالکل صحیح ہےاوریہ ہرشخص کےلئے عام ہے،محض گمان سےاس کاانکارنہیں کیاجائےگایہاں تک کہ درد بھی تکلیف میں مبتلا شخص کے لئے نعمت ہےاگر اس کے لئے نعمت نہ ہو مثلاً:گناہ کی وجہ سے ہونے والا درد کہ کوئی شخص اپنا ہاتھ کاٹ لےیا جلد کو داغ کر نشانات بنوالےتواس کی وجہ سے درد محسوس کرے گااور گناہ گارہوگا۔کفار کاجہنم میں تکلیف اٹھانا بھی مسلمانوں کے لئے نعمت ہے کیونکہ ایک قوم کا مصیبتوں میں مبتلاہونا دوسری قوم کےلئےفائدے کی بات ہوتی ہے۔ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ عذاب کو پیدا کرکے اس میں ایک جماعت کو مبتلا نہ کرتا تو جنہیں نعمتیں دی گئی ہیں وہ ان کی قدر وقیمت سمجھتے نہ اس پر زیادہ خوشی کااظہارکرتے۔یہی وجہ ہے کہ جب اہْلِ جنت دوزخیوں کی تکالیف کے بارے میں سوچیں گے توان کی خوشی مزیدبڑھ جائے گی ۔
کیا آپ نے اس پر غور نہیں کیا کہ لوگ ضرورت کے باوُجود دھوپ کودیکھ کرکسی خاص خوشی کا اظہار