Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
374 - 882
کاوجودمانتے ہیں تومصیبت  کاوجودبھی مانناپڑے گا کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ پس مصیبت کا نہ آ نا نعمت ہے اور نعمت کا نہ ہونا مصیبت ہے۔البتہ یہ بات پہلے بھی بیان ہوچکی  کہ نعمت  کی دو قسمیں ہیں:
(1)…مُطْلَق نعمت:جوہراعتبار سے نعمت ہو جیسےآخرت میں قُرب ِخداوندی کی سعادت ملنا اوردنیا میں ایمان، حُسن اخلاق اور ان دونوں پر مددگار چیزوں کاملنا۔
(2)…خاص نعمت :جو ایک اعتبارسےنعمت ہو اور دوسرے اعتبار سے  نہ ہوجیسے مال  ایک اعتبارسےدینی  فوائد کاسبب بنتاہےجبکہ کسی اَورلحاظ سے دینی نقصان کاباعث  بنتاہے۔
	اسی طرح مصیبت  کی بھی دوقسمیں  ہیں:
(1)…مطلق مصیبت: جیسےآخرت میں بندہ قُربِ خداوندی  دیرسے پائے یا بالکل نہ پاسکے اور دنیا میں اس کی مثال کفر و گناہ   اوربداَخلاقی وغیرہ۔یہی چیزیں انسان  کومطلق مصیبت تک پہنچاتی ہیں ۔
(2)…خاص مصیبت:جیسےتنگدستی، بیماری،خوف اوران کے علاوہ  دیگر مصیبتیں ۔یہ  سب دینی نہیں بلکہ دنیاوی  اعتبار سے مصیبتیں ہیں۔پتا چلاکہ جو نعمتیں مطلق ہیں  ان  پر شکر بھی مطلق ہوتاہے۔
کس مصیبت  پر صبر کا حکم نہیں؟
	مطلق مصیبت پر صبر کرنے کاحکم نہیں دیا  جائے گاکیونکہ کفرو گناہ  ایسی مصیبتیں ہیں جن پر صبر کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں بلکہ کافر پر لازم ہے کہ کفر ترک کرے اور گناہ گار پر لازم ہے کہ گناہ چھوڑے البتہ بعض اوقات کافر کو اپنےکفرکاپتا ہی نہیں ہوتا تویہ اس مریض کی  طرح ہے جسے بے ہوشی یا کسی اور وجہ سے تکلیف کا کچھ پتا ہی نہیں  تو صبر کیاکرے گا؟لیکن گناہ گارگناہ  کوجانتا ہے لہٰذا اس پر گناہ  چھوڑنالازم ہے ۔ 
	ہر وہ تکلیف جس کاازالہ انسان کے اختیار میں ہواس پر صبرکابھی حکم نہیں دیاجائے گامثلاً: اگر سخت پیاس کےباوُجود آدمی پانی نہ پئے اورشدت بڑھتی ہی جائے تواس سے یہ نہیں کہاجائے گاکہ صبرکرتے رہوبلکہ تکلیف کوختم کرنےکے لئے پانی پینے  کا کہا جائے گا کیونکہ صبرتو  اسی تکلیف پر ہوتا ہے جسے دورکرنا انسان کے اختیار میں نہ ہو لہٰذا جب دنیاوی مصیبت پر صبر مطلق مصیبت نہ رہے گا بلکہ ایک طرح  سے نعمت  ہوجائے گا تو  یہ کہنابھی ممکن ہوجائےگاکہ صبر وشکر دونوں اکٹھے ہوسکتے ہیں ۔