نعمت کا شکر ادا نہ کیا جائے تو وہ زائل ہوجاتی ہے اوردوبارہ نہیں لوٹتی۔ اسی لئےحضرت سیِّدُنا فُضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرمایاکرتے:لوگو!نعمتوں کا شکرضرور ادا کرتے رہوکیونکہ بہت کم نعمتیں ایسی ہیں جو کسی قوم سے چلی جانے کے بعد دوبارہ ملی ہوں۔
ایک بزرگ فرماتے ہیں:نعمتیں وحشی جانوروں کی طرح ہیں انہیں شکر کے ذریعے قید میں رکھو۔
حدیث پاک میں ہے:جس بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جتنی بڑی نعمت ملتی ہےلوگوں کی ضرورتیں اس سے اتنی ہی وابستہ ہوجاتی ہیں پس جو شخص انہیں حقیر سمجھتاہے نعمت اس سے زائل ہوجاتی ہے۔(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے : اِنَّ اللہَ لَایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَابِاَنْفُسِہِمْ ؕ (پ۱۳،الرعد:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک اللہکسی قوم سےاپنی نعمت نہیں بدلتا جب تک وہ خوداپنی حالت نہ بدل دیں۔
دوسرے رکن کامضمون مکمل ہوا۔
تیسرارکن : صبروشکر کا باہمی تعلق اور اشتراک
(اس میں تین فصلیں ہیں)
پہلی فصل: صبر وشکرکا ایک چیزمیں جمع ہونے کا سبب
کوئی یہ اعتراض کرسکتاہے کہ آپ نےپہلےذکرکیاہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہرپیداکردہ چیز میں کوئی نہ کوئی نعمت ہےاس سےپتا چلاکہ مصیبت کاوجودہی نہیں ہے ،جب مصیبت کاوجودہی نہیں توصبرکاکیامطلب ہے ؟ اور اگر مصیبت کاوجود ہے تو شکرکا کیامطلب ہوا؟بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو مصیبت پر بھی شکر اداکرتے ہیں نعمت پر شکر کرنا توایک طرف رہا ۔یہ کیسے ہوسکتاہےکہ جس مصیبت پر صبر کیا جائےتو اس پر شکر ہو سکے؟ کیونکہ صبر تو مصیبت پر ہوتا ہے جو کہ غم کا تقاضا کرتا ہےجبکہ شکر خوشی کا تقاضا کرتا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ایسی صورت میں آپ کا یہ کہنا کہ ہر موجود چیزمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت ہے۔ اس کا کیا مطلب ہوگا؟
اس کاجواب یہ ہے کہ جس طرح نعمتوں کاوجود ہےاسی طرح مصیبتوں کا بھی وجود ہے ۔اگرآ پ نعمت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… موسوعة الامام ابن ابی الدنیا، کتاب قضاء الحوائج،۴/ ۱۷۵،۱۷۴،حدیث: ۴۸، ۵۰