Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
372 - 882
پھردنیامیں لوٹائے جائیں اگرچہ ایک ہی دن کےلئےتاکہ گناہ گار اپنے گناہوں کاازالہ کرلےاور نیکوکار اطاعت میں اضافہ کرلے کیونکہ قیامت کا دن خسارے کا دن ہے۔ اطاعت گزار شخص بھی اس دن خسارے میں ہوگاجب وہ اپنے اعمال کی جزا دیکھے گاتوکہے گا:”میں تواس سے زیادہ نیکیاں کرنےپر قادر تھا ، مجھے کتنا بڑا نقصان ہوا کہ میں نے وقت کا کچھ حصہ محض جائز کاموں پر خرچ کردیا۔“اور   گناہ گار کا نقصان توواضح ہے۔ 
قبرستان جاتے وقت کیاذہن ہوناچاہئے؟
	بُزرگانِ دین قبروں کامُشاہَدہ کرتےوقت فوت شدہ لوگوں کی سب سے پیاری چیز دنیامیں واپس لوٹائے جانے پرغور کرتے پھراپنی بقیہ زندگی ان کی خواہش کے مطابق (یعنی اطاعت الٰہی میں)گزارتے تاکہ اس کے ذریعے اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی نعمتوں کی معرفت حاصل ہوتی رہے بلکہ وہ ہرسانس کی مہلت  پرغورکرتے جب انہیں نعمت کی معرفت حاصل ہوجاتی تواپنی زندگی کوان  کاموں  میں صرف کرکے نعمت کاشکر اداکرتے جن کے لئے پیداہوئے اور وہ دنیا سے آخرت کاتوشہ تیارکرناہے۔
	یہ سب شکرِ نعمت سے غافل دلوں کا علاج تھا تاکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتوں  کااحساس کریں اور شکر اداکریں۔
سیِّدُنا ربیع بن خَیْثَم عَلَیْہِ الرَّحْمَہکاانداز:
 	حضرت سیِّدُنا ربیع بن خیثمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہصاحِبِ بصیرت  ہونے کے باوُجوداس طریقے سے مدد حاصل کرتے تھے تاکہ معرفت کامل ہوجائے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے اپنے گھر میں قبرکھود رکھی تھی۔اپنے گلے میں طَوْق ڈال کر اس قبرمیں لیٹ جاتےاور یہ آیت تلاوت کرتے :
رَبِّ ارْجِعُوۡنِ ﴿ۙ۹۹﴾ لَعَلِّیۡۤ اَعْمَلُ صَالِحًا (پ۱۸،المؤمنون:۹۹،۱۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے میرے رب مجھے واپس پھیر دیجئے  شاید اب میں کچھ بھلائی کماؤں۔
	پھریہ کہتے ہوئےکھڑے ہوجاتے: اے ربیع !جس کا تم نے سوال کیاوہ تمہیں مل گیا،اب اس وقت سے پہلے عمل کرو کہ جب تم لوٹنے کا سوال کرو تو موقع  نہ  دیا جائے۔ 
شکرنعمت سے غافل دل کا ایک اور علاج:
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرنےسےدوررہنےوالےدلوں  کاایک علاج  یہ ہے کہ نعمت کو یوں پہچانے کہ جب