تکلیف میں کون؟
یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ دنیا سے منہ پھیرنے والے لوگ صبرکرکے اذیت میں مبتلارہتے ہیں کیونکہ دنیا داربھی اس کی حفاظت کرنے، اسے پانے اور اسے چوروں سے بچانے کی تکالیف برداشت کرکے اذیت میں مبتلا رہتے ہیں اور دنیا سے منہ پھیرنے والے کی اذیت آخرت میں لذت کی طرف لے جاتی ہےجبکہ دنیا دارکی اذیت آخرت میں تکلیف کی طرف لے جاتی ہے۔ دنیاسے منہ پھیرنے والوں کوچاہئے کہ اس آیَتِ مُبارَکہ کو پڑھیں:
وَلَا تَہِنُوۡا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ ؕ اِنۡ تَکُوۡنُوۡا تَاۡلَمُوۡنَ فَاِنَّہُمْ یَاۡ لَمُوۡنَ کَمَا تَاۡلَمُوۡنَ ۚ وَتَرْجُوۡنَ مِنَ اللہِ مَا لَا یَرْجُوۡنَ ؕ (پ۵،النساء:۱۰۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور کافروں کی تلاش میں سستی نہ کرو اگر تمہیں دکھ پہنچتا ہے تو انہیں بھی دکھ پہنچتا ہے جیسا تمہیں پہنچتا ہے اور تم اللہ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔
مذکوہ بالاتفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ لوگوں پر شکر کاراستہ اس لئےتنگ ہوگیا ہےکہ وہ ظاہری و باطنی اور خاص و عام نعمتوں سے ناواقف ہیں۔
ایک سُوال اور اس کاجواب:
شکرِ نعمت سے غافل دلوں کا علاج کیاہے ؟تاکہ غافل دل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کااحساس کرکے شکر بجالائیں۔
جواب :بصیرت والے دل تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ان عام نعمتوں میں بھی غووفکرکرکے شکرادا کرلیتے ہیں جن کا ہم اشارہ کرچکے ہیں مگرزنگ آلوددل نعمت کواس وقت نعمت سمجھتے ہیں جب کوئی خاص نعمت حاصل ہویا کوئی مصیبت نازل ہو ۔ایسے لوگوں کاعلاج یہ ہے کہ ہمیشہ اپنے سے کمتر لوگوں کو دیکھیں اور بزرگانِ دین کے نقْشِ قدم پر چلیں کہ وہ روزانہ شفا خانہ،قبرستان اوران مقامات پر جاتے جہاں مجرموں کو سزائیں ملتی تھیں۔ شفاخانے میں جاکرطرح طرح کی بیماریوں کامشاہدہ کرتےپھراپنی صحت وسلامتی پر غورکرتے تاکہ دل بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو دیکھ کر صحت کی نعمت کا شعور حاصل کرلےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاشکر بجالائے۔اسی طرح وہ مجرموں کا مشاہدہ کرتے کہ ان کوقِصاص میں قتل کیاجاتاہے،چوری کرنے پران کے ہاتھ پاؤں کاٹے جاتے ہیں،ان کو مختلف سزائیں دی جاتی ہیں پھران گناہوں اور سزاؤں سے اپنےمحفوظ رہنے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتے۔وہ قبرستان کا رُخ کرکے یہ تصوُّرکرتے کہ فوت شدہ لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بات یہ ہے کہ وہ