Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
370 - 882
 اور ان تینوں کے علاوہ مزیدکی حرص میں پریشان دیکھیں گے حالانکہ مزیدکی حرص  ان کے لئے نقصان دہ ہے۔ایسے لوگ نہ توان تینوں نعمتوں  کاشکراداکرتےہیں اور نہ ہی ایمان جیسی نعمت پر شکر ادا کرتےہیں جس کے ذریعے دائمی نعمتوں اوربہت بڑی بادشاہی تک پہنچناہے۔
اصل دولت :
	بصیرت والوں کومَعرفت ، یقین اور ایمان کی دولت پر ہی خوش ہوناچاہئے بلکہ  ہم نے تو بعض ایسے علما دیکھے ہیں جنہیں اگرپوری دنیا کےحکمرانوں کی جانب سےنوکرچاکر،مال ودولت، مددگاروغیرہ دے کریہ کہا جائے کہ کچھ علم کے عوض یہ چیزیں لے لیں،تو وہ نہیں لیں گے کیونکہ انہیں امید ہے کہ آخرت میں علم کی نعمت قُربِ خُداوندی عَزَّ  وَجَلَّ تک پہنچائے گی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آخرت میں جس چیز کی آپ امید رکھتے  ہیں  وہ  یقینی طور پر ملے گی بس یہ دنیاوی لذات علم کی لذت کے بدلے لے لیں تب بھی وہ کچھ نہیں لیں گے کیونکہ وہ  جانتے  ہیں کہ علم کی لذت دائمی ہے۔یہ  کبھی ختم نہ ہوگی ہمیشہ باقی رہے گی،چوری ہوسکتی ہے نہ چھینی جاسکتی ہے اورنہ ہی کوئی دوسرا اس میں اضافہ کرسکتا ہے ۔یہ ایسی صاف ہے جس میں کوئی گدلا پن نہیں جبکہ دنیا کی تمام لذات ناقص وفانی ہیں، گَدلی ہیں اور تشویش ناک ہیں جن کے چلے جانے  کا خوف ملنے کی امید سے زیادہ ہے ، تکلیف لذت سے زائد اور غم راحت سےبڑھ کر ہے۔شروع سے لے کر اب تک یہ سلسلہ چلا آرہا اور جب تک یہ دنیا باقی ہے یہ سلسلہ چلتا رہے گا کیونکہ دنیاوی لذات اس لئے پیدا کی گئی ہیں تاکہ ناقص عقل والے دھوکا کھاکر ان میں پھنس جائیں پھر جب یہ پھنس جاتے ہیں تو یہ لذتیں ان کی نافرمانی اوربغاوت کرتی ہیں جیسے کوئی خوبصورت  عورت کسی شہوت پرست غافل جوان کے لئے خوب بناؤ سنگھار کرتی ہے، جب وہ اس  کی زلفوں کااسیربن جاتاہے تو اس کی نافرمانی کرتے ہوئے چھپ جاتی ہے یوں وہ مسلسل پریشانی اورغم کا شکار  ہوجاتا ہے ۔اُسےان مصیبتوں کاسامنانظرکے دھوکے کی وجہ سے پیش آیا لہٰذا  اگر عقل سے کام لیتا،نگاہیں نیچی رکھتا اور اس لذت کو حقیر جانتا تو ساری زندگی ان مصیبتوں سے محفوظ رہتا۔یوں دنیا دار دنیا کے جال میں پھنس جاتے ہیں اوراس کے ہتھکنڈوں کاشکارہو جاتے ہیں۔