مَلَکُ الْمَوْت! مجھے ایک دن کی مہلت دے دو تاکہ اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کی بارگا ہ میں عذر خواہی کروں ، توبہ کرلوں اور اپنے لئے نیکیوں کا تو شہ لے لو ں۔“موت کافرشتہ جو اب دیتا ہے:”تم نے سارے دن بربادکردیئے اب کوئی دن نہیں۔“ بندہ کہتا ہے:”تو پھر ایک گھڑی ہی مہلت دے دو۔“ فرشتہ جواب دیتا ہے:”تم نے تما م ساعتیں ضا ئع کردیں اب کوئی ساعت نہیں۔“ پس اس پر تو بہ کا دروازہ بند کردیاجا تا ہے، جان حلق تک آجاتی ہے، سانسیں اکھڑنا شروع ہوجاتی ہیں اور وہ نقصان کی تلافی نہ ہونے پر مایوسی اور زند گی کوضائع کرنے پر حسرت و نَدامت کے گھو نٹ بھرتا ہے۔ ان احوال کے صدموں میں اس کا اصل ایمان مُضْطَرِب ہوجاتا ہے۔ پھر روح نکلنے کے وقت اگراچھی تقدیر غالب آتی ہے تو اس کی ر و ح تو حید پر نکلتی ہے۔ یہی حُسْنِ خاتمہ ہے۔ اگر شقاوت والی تقدیرغالب آتی ہے تو اس کی روح شک واضطراب کی حالت میں نکلتی ہے۔یہی بُرا خاتمہ ہے۔ اسی سلسلے میں قرآن کریم میں ارشادفرما یا گیا:
وَلَیۡسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیۡنَ یَعْمَلُوۡنَ السَّیِّاٰتِ ۚ حَتّٰۤی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الۡـٰٔنَ وَلَا الَّذِیۡنَ یَمُوۡتُوۡنَ وَہُمْ کُفَّارٌ ؕ اُولٰٓئِکَ اَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۸﴾ (پ۴،النسآء:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ توبہ ان کی نہیں جو گناہوں میں لگے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں کسی کو موت آئے تو کہے اب میں نے توبہ کی اور نہ ان کی جو کافر مریں ان کے لئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔
اور ارشاد فرمایا: اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللہِ لِلَّذِیۡنَ یَعْمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللہُ عَلَیۡہِمْ ؕ وَکَانَ اللہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷﴾ (پ۴،النسآء:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ انہیں کی ہے جو نادانی سے برائی کربیٹھیں پھر تھوڑی ہی دیر میں توبہ کرلیں ایسوں پر اللہ اپنی رحمت سے رجوع کرتا ہے اور اللہ علم وحکمت والا ہے۔
تھوڑی ہی دیر میں توبہ کرلینے کا معنیٰ یہ ہے کہ گنا ہ کے فوری بعدایسے لوگوں پر نَدامت وپشیمانی طاری ہوجاتی ہے اوراس سےپہلے کہ دل پر زنگ چڑھے اور وہ صفائی کو قبول نہ کرے وہ گناہ کا اثر زائل کرنے کے لئےگناہ کے فوراً بعد کوئی نیکی کر لیتے ہیں۔