Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
369 - 882
 (5)…کَفٰی بِالْیَقِیْنِ غِنًییعنی یقین ہی غنی ہونے کے لئے کافی ہے۔(1)
کامل نعمت:
	کسی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے منقول ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنی نازل کردہ ایک  کتاب میں فرماتاہے : بے شک! میں نے جس بندے کو بادشاہ کے پاس جانے ،طبیب سے دوا لینے اور دوسروں کے مال سے بے پروا کیا تواسےاپنی کامل نعمت عطاکردی ۔
	  کسی شاعرنے اس کی یوں ترجمانی کی ہے:
اِذَا مَا الْقُوْتُ  یَاتِیْکَ	کَذَا الصِّحَّةُ وَالْاَمْنُ
وَاَصْبَحْتَ اَخَا حُزْنٍ	فَلَا فَارَقَـکَ الْحُزْنُ
ترجمہ:جب آپ کو رزق،صحت اورامن حاصل  ہوجائے تب بھی  آپ  غمگین  رہیں توغم کبھی ختم  نہیں ہوگا۔
	بلکہ فصیح و بلیغ کلمات والی ذات یعنی سَیِّدِعالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےاس کی جانب یوں اشارہ  فرمایا:جس  نےقلبی سکون اور جسمانی صحت کےساتھ صبح  کی اور اس کے پاس دن بھرکی خوراک ہوتو گویااس کے لئے ساری دنیا جمع کردی گئی۔(2)
ناشکرے لوگ :
	آپ لوگوں کے حالات  کاجائزہ لیں گےتوانہیں ان تین نعمتوں پر شکرکے بجائے شکوہ کرتاپائیں گے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……یعنی جو شخص قرآن شریف خوش الحانی سے نہ پڑھے وہ ہمارے طریقہ سے خارج ہے معلوم ہواکہ بُری آوازوالابھی بقدرِ طاقت عمدگی سے قرآن شریف پڑھے کہ خوش آوازہی قرآنِ کریم کازیورہے جس سے تلاوت میں کشش پیداہوتی ہے لوگوں کے دل مائل ہوتے ہیں،اس لئے یہ تبلیغ کا ذریعہ ہے،یاجسےاللہ(عَزَّ  وَجَلَّ)قرآن کاعلم دے اوروہ لوگوں سے بے نیازنہ ہوجائے بلکہ اپنے کوان کامحتاج سمجھے وہ ہمارے طریقہ یاہماری جماعت سے خارج ہے عالِم صرفاللہرسول(عَزَّ  وَجَلَّو صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کامحتاج ہے اورباقی مخلوق عالِمِ دین کی حاجت مندہے،اس لئے معلوم ہواکہ قرآن پڑھ کربھیک مانگنایاعُلَماء کا مالداروں کے دروازوں پر ذِلَّت سے جاناممنوع ہےاللہتعالیٰ علمائے دین کو کفایت بھی دے قناعت بھی۔
… شعب الایمان، باب فی الزھدوقصرالامل،۷/ ۳۵۳، حدیث:۱۰۵۵۶
2… سنن ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب القناعة،۴/ ۴۴۲، حدیث:۴۱۴۱