اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنزدیک صابر وشاکرنہیں ہوتا۔(1)
جوبھی اپنےحالات ومُعاملات کابغورجائز ہ لے اورخصوصی نعمتوں کے متعلق غوروفکرکرے تودیکھ لے گا کہ اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بہت سی نعمتیں ہیں بالخصوص وہ جنہیں قرآن وسنت ، علم وایمان، صحت و فراغت اور امن وامان جیسی نعمتیں حاصل ہیں ۔کسی شاعر نے کیاخوب کہا ہے:
مَنْ شَآءَ عَیْشًا رَحِیْبًـا یَسْتَطِیْلُ بِہٖ فِیْ دِیْنِہٖ ثُمَّ فِیْ دُنْیَاہُ اِقْبَالًا
فَلْیَنْظُرَنَّ اِلٰی مَنْ فَوْقَہٗ وَرْعًا وَّلْیَنْظُرَنَّ اِلٰی مَنْ دُوْنَہٗ مَالًا
ترجمہ:جو شخص من پسند زندگی کاطالب ہو، دین میں عزت اوردنیامیں سربلندی کاخواہاں ہو،اسے تقوٰی میں اپنے سے بہتر اور دولت میں اپنے سے کمترکی طرف دیکھناچاہئے۔
قرآن کے ذریعے غَنا کے حصول پر پانچ فرامین مصطفٰے:
(1)…مَنْ لَمْ یَسْتَغْنِ بِاٰیَاتِ اللہ فَلاَ اَغْنَاہُ اللہ یعنی جو شخص آیاتِ باری تعالیٰ کے ذریعے غنا نہیں چاہتااللہ عَزَّ وَجَلَّاسے غنی نہیں کرتا۔اس میں نعمت علم کی طرف اشارہ ہے۔
(2)… اِنَّ الْقُرْآنَ ھُوَالْغَنِیُّ لاَ غَنِیَّ بَعْدَہٗ وَلاَ فَقْرَ مَعَہٗیعنی بے شک قرآن کریم ہی وہ غنا جس کے ساتھ کوئی فقر ہے نہ اس کے بعد کوئی غنا ۔(2)
(3)…جس شخص کو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن پاک کا علم عطافرمایا پھربھی وہ دوسرےکوخودسے زیادہ غنی خیال کرےتو بے شک اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی آیات کا مذاق اڑایا۔(3)
(4)…لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْاٰنَیعنی جس نے قرآن کریم کے ذریعے غنا حاصل نہ کیا وہ ہم میں سے نہیں ۔(4) (5)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سنن الترمذی، کتاب صفةالقیامة، باب(۱۲۳)، ۴/ ۲۲۹،حدیث:۲۵۲۰،بتغیرقلیل
2…المعجم ا لکبیر،۱/ ۲۵۵، حدیث:۷۳۸،بتغیر
3…شعب الایمان، فصل فی التکثربالقران والفرح بہٖ،۲/ ۵۲۲،حدیث:۲۵۹۰
4…بخاری،کتاب التوحید، باب قول الّٰلہ تعالٰی: واسرواقولکم…الخ،۴/ ۵۸۶،حدیث:۷۵۲۷
5…مفسرِشہیر،حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیمراٰۃ المناجیح،جلد3،صفحہ266پراس کے تحت فرماتے ہیں:یَتَغَنّٰی یاتوغِناءٌسے بناہے بمعنی خوش الحانی اوراچھے لہجے سے پڑھنایاغَناسے بناہےبمعنی بے پرواہی بے نیازی …۔۔۔۔۔۔