Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
367 - 882
خصوصی نعمت وحالت کی علامت:
	اگران کی جگہ ان کے مُخالِف احوال پیش کئے جائیں (مثلاً:تندرستی کی جگہ بیماری وغیرہ )توکوئی بھی اس پرراضی نہیں ہوگا بلکہ بعض نعمتیں ایسی ہیں جنہیں کوئی کسی چیز کے بدلے بھی قبول نہیں کرےگا اور قبول نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یا توخاص اسے  یہ نعمت ملی ہے یا پھر زیادہ تر لوگوں کو یہ نعمت ملی ہے، جب کوئی شخص اپنی حالت کسی دوسرے سے بدلنانہ چاہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کی حالت دوسرے سے بہتر ہے اورجب کوئی شخص ایسا نہ ملے جو اپنی حالت کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر بدلنا چاہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اس پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی وہ نعمتیں ہیں جو کسی اور کو میسر نہیں ۔البتہ اگر کوئی دوسروں کی بعض حالت سے اپنی حالت کو بدلنا چاہتا ہے اوربعض سے نہیں تواسے ان لوگوں  کی تعدادپرغورکرنا چاہئے یقیناً وہ دوسروں کی نسبت کم ہوں گے کیونکہ جولوگ کمتر حالت میں ہیں وہ بہترحالت والوں سےعموما تعداد میں زیادہ  ہوتے ہیں۔
	کیا ہوگیا ہے انسان کو کہ خود سے بہترکو دیکھ کراپنے اوپر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت کو حقیرسمجھتا ہے اور اپنے سے کمترکو دیکھ کر  نعمت کو عظیم  نہیں  سمجھتا،آخر کیا ہوگیا ہے انسان کو کہ اپنی دنیا کو دین کے ذریعے درست نہیں کرپاتا۔
شکرکی توفیق نہ  ملنے کی وجہ :
	کیا ایسا نہیں ہوتاکہ جب نفس کسی گناہ پر ملامت کرتاہے تو لوگ یہ عذر پیش کرتےہیں کہ گناہ گار اورفاسق لوگ کثرت سے ہیں،ایسےلوگ دین کےمُعاملےمیں ہمیشہ اپنے سے بہترکے بجائے کمتر کو دیکھتے ہیں جبکہ دنیاوی  مُعامَلے میں ایسا نہیں کرتے تو جب دینی معاملات میں اکثر لوگوں کی حالت ان سے بہتر ہواور دنیاوی معاملات میں ان کی حالت دیگر لوگوں سے بہتر ہوتو شکر کی توفیق کیسے ملی گی؟ 
صابر وشاکر:
	رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے :جو شخص دنیاوی  معاملات میں اپنے سے کمترکو دیکھے اور دینی مُعاملات میں اپنے سے بہتر کی طرف نظر رکھےوہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکےنزدیک صابر وشاکر ہوتا ہے اور جو شخص دنیاوی مُعاملات میں اپنے سے بہترکو دیکھے اور دینی مُعاملات میں خود سے کمتر کو دیکھےوہ