نعمَتِ اخلاق کی وضاحت:
دوسری خاص نعمت حُسْنِ اخلاق ہے ۔عموماً انسان دوسروں میں ایسے عیب دیکھتاہے جنہیں وہ ناپسند کرتاہے اورایسے اخلاق دیکھتاہے جن کی وہ مذمت کرتا ہےاورمذمت بھی یوں کرتاہے کہ خود کو ان عیبوں سے پاک سمجھتا ہے۔اگر کوئی شخص دوسرے کی مذمت میں مشغول نہ ہوتو اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اس نے اسے اچھے اخلاق سےنوازا اور دوسروں کی طرح بُرے اخلاق میں مبتلانہیں کیا۔
نعمَتِ علم کی وضاحت:
تیسری خاص نعمت اپنےاعمال کاعلم ہے۔ہرشخص اپنے اندرونی خیالات اور خفیہ اَفکار کو اکیلا جانتا ہے۔ اگر حقیقت سےپردہ اٹھ جائےاور کوئی ان باتوں پرمُطَّلع ہوجائے تو اسے بدنامی کاسامناکرنا پڑے۔ اگر پورے عالم پرآشکارہوجائےتو کیسی بدنامی ہوگی؟بہرحال ہرشخص کو اپنےخفیہ اعمال کا علم حاصل ہوتاہے جسےاس کے سواکوئی اور نہیں جانتا۔جب معاملہ ایساہی ہے تووہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کیوں نہیں کرتا جس نے اس کی برائیوں کی پردہ پوشی فرمائی اور اچھائیوں کوظاہر کیاہے۔ لوگوں کی نگاہوں سے اس کے مُعاملات کو پوشیدہ رکھ کرفقط اس تک ان باتوں کا علم محدود رکھا تاکہ کوئی دوسرا ان باتوں پر مُطَّلَع نہ ہوسکے۔
مذکورہ تینوں نعمتیں خاص ہیں۔ ہرشخص ان کی خصوصیت کاجُزوی یاکُلّی طورپر اِعتراف کرتا ہے ۔
خاص نعمتوں کی ایک اورصورت:
مذکورہ تینوں نعمتوں کے علاوہ کچھ اورنعمتیں بھی ہیں جوگزشتہ تین کے مقابلے میں کچھ عام ہے۔ ہر انسان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے شکل وصورت، اَخلاق واوصاف ، اہل و عیال،گھر ، شہر، دوست واحباب، عزیزو اقارب، عزت و جاہ وغیرہ کی صورت میں چندایسی محبوب اشیاء دی ہیں کہ اگراس سے چھین کردوسروں کودےدی جائیں تو وہ راضی نہیں ہوگامثلاً:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسےمومن بنایا کافر نہ بنایا، حیات رکھی جمادات نہ بنایا، انسان بنایاجانور نہ بنایا، مرد بنایا عورت نہ بنایا، تندرست رکھابیمار نہ بنایا، عیبوں سے محفوظ رکھا عیب دار نہیں بنایا۔ یہ سب خصوصی نعمتیں ہیں اگرچہ ہر ایک کوحاصل ہونے کے اعتبارسے عام ہیں ۔