حکایت:پوری سلطنت کی قیمت پانی کاایک گلاس
حضرت سیِّدُنا ابنِ سِماک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکسی عباسی خلیفہ کے پاس تشریف فرماتھے۔خلیفہ ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامےعرض گزارہوا:مجھے نصیحت فرمائیے؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : سخت پیاس کی حالت میں اگر تمہیں یہ پانی کاگلاس تمام مال کے بدلے لیناپڑے توکیاتم تمام مال دےکرپانی لوگے ؟ خلیفہ نے عرض کی: جی ہاں۔ پوچھا :اگر اس پانی کے بدلے تمام حکومت چھوڑنی پڑےتو کیا تم حکومت چھوڑ دوگے؟ اس نےکہا:جی ہاں۔ فرمایا:جس حکومت کی قیمت پانی کا ایک گلاس ہےاس پرتمہیں ذرابھی خوش نہیں ہوناچاہئے۔
اس سے معلوم ہوا کہ پیاس کے وقت ایک گھونٹ پانی مل جانا تمام زمین کی سلطنت وحکومت سے بڑی نعمت ہے۔جب یہ معلوم ہوچکاکہ انسانی طبیعت عام نعمت کے بجائے خاص نعمت کونعمت شمار کرتی ہےتو اب ہم نعمَتِ خاصہ کی طرف مختصر سا اشارہ کریں گےجبکہ نعمت عامہ کا تذکرہ پیچھے کرچکے ہیں ۔
کچھ خاص خاص نعمتیں:
کوئی بھی شخص گہرائی میں جاکر اپناجائزہ لےتو معلوم ہوجائے گاکہ اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ایک یا کئی نعمتیں ایسی ملی ہیں جن میں گِنے چُنے لوگ شریک ہوں گے اور بعض مرتبہ توکوئی بھی شریک نہیں ہوتا۔ان خاص نعمتوں میں سے تین کااعتراف ہرشخص کرتا ہے۔(۱)…عقل (۲)…اَخلاق او ر (۳)…اپنے اعمال کاعلم۔
نعمَتِ عقل کی وضاحت:
ہرانسان عقل کےمتعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے راضی دکھائی دیتاہے۔ہرشخص خودکوسب سے عقلمند تصور کرتا ہے۔ بہت کم لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے عقل کاسوال کرتے ہیں ۔یہ عقل کی خصوصیت ہے کہ جس میں نہیں ہے وہ بھی خوش ہےاورجس میں ہے وہ بھی خوش ہے۔بہرحال جس کایہ گمان ہو کہ وہ سب سے زیادہ عقلمند ہےاور حقیقت بھی یہی ہو جیسا وہ گمان کرتاہے تو اسےلازمی شکراداکرناچاہئے۔اگر اس کے گمان کے مطابق نہ ہوتب بھی اس پرشکربجالاناضروری ہے کیونکہ اس کے حق میں نعمت پائی جارہی ہےجیسے کسی شخص نےزمین میں خزانہ دبا یااور خوشی سے شکر بجالایا۔اب اگر کسی نے اس کا خزانہ نکال لیا اور اسے پتا نہیں چلا تب بھی وہ اپنے گمان کےمطابق خوش اورشکر گزار رہتاہےکیونکہ اس کے گمان کے مطابق خزانہ موجود ہے۔