Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
364 - 882
رحمت ونعمت سے غافل شخص کی مثال:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت وسیع ہے، اس کی نعمتیں تمام مخلوق میں عام  ہیں،مخلوق  لمحہ بہ لمحہ  ان سے نفع اٹھا رہی ہے  لیکن شکرسے غافل شخص اسے پہچان نہیں پاتا۔ایسےشخص کی مثال اس کم عقل غلام کی سی ہے جسے ہر وقت مار پڑتی ہے اگرکچھ دیر مار نہ  پڑے توشکرگزار رہے اور اگربالکل ہی نہ مارا جائے تو اَکڑجائے اورنا شُکرا بن جائے۔اب تو لوگ مال کی نعمت پر ہی شکر ادا کرتے ہیں اورمال بھی وہ جو مخصوص طریقے سے حاصل ہوچاہے کم ہویا زیادہ۔ایسے لوگ اپنےاوپراللہ عَزَّ وَجَلَّ کی  دیگر نعمتوں سے غافل  ہیں۔ 
حکایت:اِصلاح کاانوکھاانداز
	منقول ہے کہ کسی شخص نےایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے اپنی تنگدستی  کا شکوہ کیا اور اس سے ہونے والےرنج وغم کا اظہار کیا۔انہوں نےاس سے پوچھا: کیا تمہیں10 ہزار درہم  کے بدلے اندھا ہونا قبول  ہے؟ اس نےعرض کی: نہیں ۔ پوچھا:کیا تمہیں دس ہزار درہم کے بدلے گونگاہوناقبول ہے؟ اس نے  عرض کی : نہیں۔بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پوچھا :کیا تمہیں20ہزار درہم  کے بدلے دونوں ہاتھ اور پاؤں کٹوانا قبول ہے ؟اس نے عرض کی : نہیں ۔ پوچھا :کیا تمہیں10ہزار درہم  کے بدلے پاگل ہوناقبول ہے ؟ اس نے عرض کی : نہیں۔تب انہوں نے فرمایا:تمہیں حیا نہیں آتی کہ پچاس ہزار کا سامان ہونےکے باوُجود  اپنے آقا و مولیٰ کی شکایت کررہے ہو ؟
حکایت:قاری صاحب کاقصہ 
	منقول ہے کہ  ایک قاری صاحب شدیدتنگدستی کاشکارہوگئے یہاں تک کہ یہ معاملہ برداشت سے باہر ہوگیا ،کسی  نےخواب میں آکرکہا:کیاہم تمہیں ایک ہزار دینار کے بدلے سورۂانعام بھلادیں؟قاری صاحب  نے کہا: نہیں۔ پھر پوچھا گیا: سورۂ ھودبھلادیں؟ قاری صاحب  نے کہا: نہیں۔پھر پوچھاگیا: سورہ ٔ یوسف بھلادیں؟قاری صاحب  نے کہا: نہیں۔خواب میں کہنےوالےنے کئی سورتوں کے نام لئے پھر کہا :تمہارے پاس ایک لاکھ دینار ہے اور تم شکوہ کرتے ہو ؟ قاری صاحب  بیدارہوئے تو تنگدستی کاغم دورہوچکاتھا۔