Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
363 - 882
تیسری فصل:			شُکْرِنعمت سے دورکرنے والےا سباب 
	جان لیجئے!جہالت اورغفلت ہی انسان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کا شکر اداکرنے سے عاجز کرتے ہیں کیونکہ نعمت کا شکر نعمت پہچاننے کے بعد ہی ہوتاہےجسےوہ جہالت اورغفلت کی وجہ سےپہچان  نہیں پاتاپھر اگرنعمت کی پہچان حاصل کر بھی لے تو”اَلْحَمْدُلِلّٰہ“یا”اَلشُّکْرُ لِلّٰہ“جیسےالفاظ کہہ لینےہی کو کافی سمجھتا ہے اور شکر  کامطلب نہیں جانتا کہ نعمت اللہ عَزَّ وَجَلَّکی فرمانبرداری میں استعمال کی جائےیعنی نعمتوں کے ذریعے اطاعَتِ الٰہی کی حکمت پیْشِ نظررہے۔ البتہ !نعمت کی پہچان اور شکر کا معنیٰ سمجھ لینے کے بعدبھی  شکر ادا نہ کرناشہوت کاغلبہ اور شیطان کا تَسَلُّط ہے۔ 
نعمت سے غفلت کے اسباب:
	نعمتوں سے غفلت کے کئی اسباب ہیں۔ایک سبب یہ ہے کہ لوگ اپنی جہالت کی وجہ سےان چیزوں کو نعمت نہیں سمجھتےجو ہر ایک کو تمام حالات میں میسر ہوتی  ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان نعمتوں کا بھی شکر ادانہیں کرپاتے چونکہ  یہ نعمتیں  تمام لوگوں میں یکساں استعمال ہوتی ہیں لہٰذا ہر ایک نہ تواپنےساتھ ان نعمتوں کے تعلق  کو سمجھ پاتاہے اورنہ انہیں نعمت شمار کرتاہے۔ 
	مثلاً:لوگ ہوا(آکسیجن) پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کاشکرادا نہیں کرتےحالانکہ (یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ ) اگر کچھ دیر کے لئے کسی کا گلا دبا دیا جائے یہاں تک کہ ہواکی آمدورفت  بند ہوجائے تو وہ شخص مرجائے یا کسی کو ایسےحمام میں بند کردیا جائے جس میں گرم ہوا ہو(اور نکلنے کا راستہ نہ ہو)یا ایسے کنویں میں قید کردیاجائے جس میں تری کی وجہ سے بدبودارہوا ہوتووہ شخص دم گھٹنے کی وجہ سے مرجائے۔ 
	اگر کوئی شخص ان مصیبتوں میں مبتلاہوجائےپھر ان سے نجات پائےتوسمجھ جاتاہے کہ ہوا نعمت ہے اوراس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر اداکرتاہے۔ یقیناًیہ بڑی جہالت کی بات ہے کہ نعمت زائل ہونے کےبعددوبارہ ملے تب شکر کیاجائے حالانکہ نعمت  کا ہر حال میں شکر کرتے رہنا چاہئے۔آپ نے اسی بصارت والے کو شکر ادا کرتے دیکھاہوگاکہ جو پہلے اندھا تھا پھراسے بینائی لوٹائی گئی تو اسے  قوت بصارت کےنعمت ہونےکا احساس ہوااورشکر ادا کرتے  ہوئے قوت بصارت کو نعمت شمار کیا۔