ہیں وہاں کی زمین ان سے محبت کرتی ہے اگریہ چلیں جائیں تو آثارومَقامات ان کی جدائی میں آنسو بہاتے ہیں۔
سانسوں میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں:
آپ پلکوں کےمتعلق نعمتوں کوجان چکے یونہی سانس لینے میں بھی دو نعمتیں ہیں مثلاً: آپ سانس باہر نکالتے ہیں تودل میں موجود دھواں نکل جاتا ہے،اگر یہ نہ نکلے تو آدمی ہلاک ہوجائے۔اسی طرح سانس اندرلیتے وقت تازہ ہوا دل میں پہنچتی ہے اگر سانس کے ذریعےہوانہ پہنچے تودل اندرونی تپش سے جل جائے اور انسان ہلاک ہوجائے۔ دن رات ملاکر24 گھنٹےبنتے ہیں انسان ہر گھنٹے میں تقریباً ہزاربار سانس لیتا ہے، ہر سانس میں تقریباً10لمحے ہوتے ہیں گویاسانس کی صورت میں انسان پرہر لمحے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی لاکھوں نعمتیں نازل ہوتی ہیں۔فقط انسان ہی پرنہیں بلکہ عالَم کے ہرہرجزمیں بے شمار نعمتیں پائی جاتی ہیں۔ غور فرمائیے! کیا انہیں شمار کرنےکا تصور کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟
سَیِّدُنا موسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کاطریقَۂ شکر:
جب حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اس فرمان :
وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوۡہَا ؕ(پ۱۴،النحل:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراگراللہ کی نعمتیں گِنو توانہیں شمار نہ کرسکو گے۔
کی حقیقت ظاہرہوئی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَامعرض گزار ہوئے:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں تیرا شکر کس طرح ادا کروں؟ میرے جسم کے ہر بال میں تیری دو نعمتیں ہیں کہ تو نے اس کی جڑ کو نرم اور اس کے سرے کو جھکا ہوا کیا۔
روایت میں ہے کہ جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کوصرف کھانے پینے کی حدتک جانتا ہے اس کا علم کم اور عذاب قریب ہے ۔
کھانے پینے کے متعلق جو کچھ بھی ہم نے لکھا ہے اسی سے دیگرنعمتوں کااندازہ لگالیجئےکیونکہ عقل مندشخص جب اِس عالم میں کسی چیز کو دیکھتاہےیا اس کے دل میں کسی موجودشےکا خیال آتا ہے تو وہ اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت تلاش کرتا ہے، اب ہم تفصیل کوموقوف کر تے ہیں کیونکہ غیرِ مقصود کی خواہش بے فائدہ ہے۔