آنکھوں کے بغیر،آنکھ سر کے بغیر، سرجسم کے بغیر،جسم غذا کے بغیر قائم نہیں اور غذاپانی، زمین ، ہوا، بارش، بادل ،چاندسورج کے بغیر قائم نہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی چیز آسمانوں کے بغیر قائم نہیں ہوتی اور کوئی آسمان فَرشتوں کے بغیر قائم نہیں ہوتا کیونکہ یہ سب ایک چیز کی مثل ہیں جیسے بد ن کے اعضاء ایک دوسرےسےمل جل کرقائم ہیں ویسے ہی یہ سب ایک دوسرے سے مِل جُل کرقائم ہیں تو معلوم ہواکہ کسی ایک نعمت کاناشکراتما م زمینی وآسمانی نعمتوں کا ناشکراہے ۔ فَرِشتے، حیوانات،نباتات ،جَمادات ناشکرے شخص پر لعنت بھیجتےہیں ۔مروی ہے کہ زمین کے جس حصے میں لوگ جمع ہوتے ہیں اور پھر جُدا ہوتے ہیں تو وہ حصہ اُن پر لعنت بھیجتاہے یا اُن کے لئے دعا ئے مغفرت کرتا ہے۔
ایک رِوایت میں ہے:اِنَّ الْعَالِمَ یَسْتَغْفِرُ لَـہٗ کُلُّ شَیْ ءٍ حَتَّی الْحُوْتُ فِی الْبَحْرِیعنی بے شک عالِم کے لئے ہر چیز بخشش مانگتی ہے حتّٰی کہ دریا میں مچھلیاں بھی۔(1)
بے شمار حدیثوں میں گناہ گار وں پر فَرِشتوں کے لعنت کرنے کا ذکر موجود ہے ۔(2)یہ احادیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ پلک جھپکنے بھربھی نافرمانی کرنے والا تمام مُلْک و مَلَکُوْت کا مُجْرِم ٹھہرتاہے اور خود کو ہلاکت میں ڈالنےوالاہوتاہے۔ البتہ اگر کوئی شخص کسی گناہ کے بعد نیکی کرکےگناہ مٹا دے تو لعنت ، اِستِغفار میں بدل جاتی ہے اور اُمید پیداہوجاتی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرما کر اسے معاف کردے ۔
سیِّدُنا ایوبعَلَیْہِ السَّلَام کی جانب وحی:
اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا ایوب عَلَیْہِ السَّلَام پروحی نازل فرمائی کہ میرے ہر بندے کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں اور جب بندہ میری نعمتوں پر شکر ادا کرے تودونوں فرشتے نعمت میں اضافے کی یوں دعاکرتے ہیں:”اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ!اس کی نعمت میں اضافہ فرما،بےشک تو ہی حمد و شُکرکے لائق ہے۔“اے ایوب !تم بھی شکر کرتے رہو،میرے نزدیک شکر کرنے والوں کے بلند مرتبہ ہونےکے لئے یہی بات کافی ہے کہ میں ان کا شکر قبول کروں اور میرے فرشتے ا ن کے لئے دعا مانگیں۔میرے شُکرگُزاربندےجہاں رہتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الدارمی،المقدمة،فی فضل العلم والعالم،۱/ ۱۱۰،حدیث:۳۴۳
2… مسلم، کتاب البروالصلة، باب النھی عن الاشارة…الخ، ص۱۴۱۰،حدیث:۲۶۱۶