Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
360 - 882
 کے اعصاب سے مُتَّصِل کچھ گوشت اورپٹّھےہیں ،ان کے ذریعے اوپر والی پلک جھپکتی  اور نیچے والی پلک اٹھتی ہے، ہر پلک پر سیاہ بال ہیں ،ان کے سیاہ ہونے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت یہ ہے کہ وہ آنکھ کی روشنی کو جمع  رہنےدیتی ہے جبکہ سفیدی روشنی کو پھیلاتی ہے۔ان بالوں کا ایک ترتیب کے ساتھ ہونا بھی نعمت ہے کیونکہ اس سےنگاہوں کی حفاظت ہوتی ہے نیزہوامیں اڑنےوالے گردوغباراورکیڑے مکوڑےآنکھوں میں نہیں جاسکتے۔پھرپلکوں کے ہربال میں دونعمتیں ہیں یعنی بالوں کی جڑوں کانرم ہونااورنرمی کےباوجود کَھڑارہنا۔اوپر نیچےکی پلکیں مل کرجال بن جاتے ہیں یہ بہت بڑی نعمت ہے اس لئے کہ بعض اوقات ہوا میں اڑتا غبار آنکھ کھلنے میں رکاوٹ بنتا ہے اگر آنکھیں بندکرلی جائیں تو کچھ نظرنہ آئے۔اوپر نیچے کی پلکوں کوجال بناکراس وقت اتنی مقدار میں آنکھ بند کرسکتا ہےکہ ان کی آڑ میں سے دیکھ سکےیوں اشیاءنظر بھی آئیں گی اورغُبار وغیرہ سے آنکھ بھی محفوظ رہے  گی۔اگر آنکھ کی پُتلی تک غبار پہنچ بھی جائے تو ایک دو مرتبہ آنکھ بند کرنے کھولنے سے غبار زائل ہوجاتا ہےکیونکہ پلکوں کاکنارہ اورآنکھ کی  پُتلی مل کراسے آئینے کی طرح صاف وشَفَّاف کردیتے ہیں۔
مکھی کی پلکیں  نہیں ہوتیں:
	مکھی کی آنکھوں پر  پلکیں نہیں ہوتیں اسی لئے وہ ہمیشہ اپنی اگلی ٹانگوں سے آنکھیں مل  کرغبار صاف کرتی ہے۔
	ہم نعمتوں کا تفصیلی بیان  نہ کرسکے کیونکہ یہ کتاب کے مقصود پر اضافہ کا باعث ہوتا اورکتاب مزید طویل ہوجاتی۔اگرمُہْلَت ملی اورتوفیق شامِلِ حال رہی توہم”عَجَائِبُ صَنْعِ اللہ“(1)نامی ایک الگ کتاب لکھیں گے۔اب ہم دوبارہ اپنےموضوع کی طرف آتےہیں۔
تما م زمینی وآسمانی نعمتوں  کا ناشکرا:
	آنکھوں کے ذریعے نافرمانی کی بات چل رہی تھی مثلاً اگرکسی شخص نے غیرمحرم عورت کو دیکھنےکے لئےآنکھ  کھولی تواس نے پلکوں کی صورت میں ملنے والی نعمَتِ خداوندی کی ناشکری کی۔غورفرمائیے!پلکیں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…علامہ سیّد محمد مرتضٰی زَبیدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :”اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں یہ توفیق دی اور انہوں نے یہ کتاب تالیف فرمائی ۔علامہ ابن سبکی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس کتاب کو امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِيکی تصانیف میں شمار کیا۔“(اتحاف السادة المتقین،۱۱/ ۲۴۹)