مَعْرِفَت) کے درمیان حا ئل ہوتی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ لو گ غفلت کی نیند سورہے ہیں،جب مریں گے تو بیدار ہوجائیں گے۔ اس وقت ہر مُفْلِس اپنے اَفلا س کو اور ہر مصیبت زد ہ اپنی مصیبت کو پہچان لے گا لیکن اس وقت اس کی تلافی وتدارُک نہیں ہوسکے گی۔
پلک جھپکنے کی مہلت:
ایک عارِف بِاللہ بُزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:جب حضرت سیِّدُنا عزرائیل عَلَیْہِ السَّلَام کسی بندے کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں تو اسے بتاتے ہیں کہ”تمہاری زند گی کی ایک گھڑی باقی رہ گئی ہے اور اب تجھے پلک جھپکنے کی مقدار بھی مہلت نہیں دی جائے گی۔“ اس وقت بندے پر ایسا افسو س اور ایسی حسرت طاری ہوتی ہے کہ اگر اس وقت دنیا اپنی تما م نعمتوں کے ساتھ اس کی ملکیت میں آجائے تو وہ اسے دے کر اس آخری گھڑی پر ایک گھڑی کی مہلت چاہے گا تاکہ اس میں تکلیف برداشت کر کے اپنی کوتاہیوں کا ازا لہ کرلے مگراس وقت مہلت نہیں پائے گا۔ یہی وہ پہلا معنیٰ ہے جودرج ذیل فرمانِ باری تعالیٰ کے معانی میں ظاہر ہوتا ہے: وَ حِیۡلَ بَیۡنَہُمْ وَ بَیۡنَ مَا یَشْتَہُوۡنَ (پ۲۲،سبا:۵۴) ترجمۂ کنز الایمان:اور روک کردی گئی ان میں اور اس میں جسے چاہتے ہیں۔
اس ارشادِباری تعالیٰ میں بھی اسی طرف اشارہ ہے: مِّنۡ قَبْلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوۡلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیۡۤ اِلٰۤی اَجَلٍ قَرِیۡبٍ ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَکُنۡ مِّنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰﴾ وَ لَنۡ یُّؤَخِّرَ اللہُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُہَا ؕ وَ اللہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۱﴾٪ (پ۲۸،المنٰفقون:۱۰ ،۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:(اور ہمارے دیئے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو)قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا اور ہرگز اللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔
اس آیتِ مبارَکہ میں بیان کردہ ” اَجَلٍ قَرِیۡبٍ یعنی تھوڑی مدت“ کی تفسیرمیں ایک قول یہ ہے کہ جس تھوڑی مدت کا وہ مطالبہ کرے گااس کا معنیٰ یہ ہے کہ نگاہوں سے پردہ اٹھنے کےوقت بندہ کہتا ہے:”اے