Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
359 - 882
 کھولنا چاہے تو صحیح سالم  پلکوں کو اس میں کوئی تَرَدُّد اور اختلاف نہیں ہوسکتا بلکہ یہ توکھلنےاوربندہونےکے معاملے میں انسان کےارادوں اور اشاروں کی منتظر رہتی ہیں۔البتہ یادرہے یہ تشبیہ  ہرطرح سے دُرُست نہیں کیونکہ پلکوں کو اپنی حرکت کا علم نہیں ہوتا جبکہ فرشتوں میں حیات ہے اور وہ اپنے عمل کا علم رکھتے ہیں۔
	غورفرمائیے!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے زمین و آسمان کے فرشتوں کے ذریعے صرف کھانے پینےکی اشیاء  میں اس قدر نعمت عطا فرمائی ہےتو باقی حرکات و حاجات میں نعمتوں کاکیاعالم ہوگا؟ ہم باقی نعمتوں کا ذکر کرکے کلام طویل نہیں کریں گے کیونکہ جب ایک  طبقہ کی نعمتوں کا شمار ممکن نہیں ہے تو تمام طَبَقات کی نعمتوں کا شمار کیسےممکن ہوگا؟  
ظاہری وباطنی نعمتیں:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےانسان کوظاہری اورباطنی نعمتوں سے نوازااورپھرارشادفرمایا:
وَذَرُوۡا ظَاہِرَ الۡاِثْمِ وَبَاطِنَہٗ ؕ (پ۸،الانعام:۱۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اور چھوڑ دو کھلا اور چھپا گناہ۔
	باطنی گناہوں  سے مرادحسد، بدگمانی،بِدْعَتِ سَیِّئَہ ،دل میں کسی کےلئےمُخالَفَت اوربُرائی  چھپائے رکھنے جیسی باطنی بیماریاں ہیں جنہیں لوگ پہچان نہیں پاتے۔ان گناہوں کوچھوڑدیناحقیقت میں باطنی نعمتوں کا شکر ہےاورظاہری گناہوں کو چھوڑدینا ظاہری نعمتوں  کاشکر ہے۔
پلک جھپکنے کی مقدار نافرمانی:
	اگرکوئی شخص پلک جھپکنے  کی صورت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کرے  یعنی بدنگاہی کرےتو میرے نزدیک اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تمام زمینی وآسمانی نعمتوں کی ناشکری  کی کیونکہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے جو کچھ بھی پیدا کیا ہے مثلاً:فرشتے، زمین و آسمان، حیوانات و نباتات یہ سب کچھ بندوں پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتیں ہیں کہ ان نعمتوں کا نفع  بندوں سے وابستہ ہوتا ہے اگرچہ دیگرمخلو ق بھی ان سے نفع اٹھاتی ہے۔
پلکوں میں موجودنعمتیں: 
	پَلَک جَھپَکناتو اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی نعمت ہے ہی نیزدو نعمتیں پلکوں میں بھی شامل ہیں کیونکہ ہر پلک کے نیچے دماغ