Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
358 - 882
وَ مَا مِنَّاۤ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوۡمٌ ﴿۱۶۴﴾ۙ (پ۲۳،الصفت:۱۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اور فرشتے کہتے ہیں ہم میں ہر ایک کا ایک مقام معلوم ہے۔
	یہی وجہ ہے کہ فَرِشتے آپس  میں لڑنے  اورایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتےبلکہ ان کی مثال حواسِ خمسہ کی طرح ہے کہ ہر فرشتے کا ایک مقام اور مخصوص کام ہے جیساکہ دیکھنےکی قوت آواز کے معاملے میں سننےکی قوت میں مُداخلَت نہیں  کرتی ۔سونگھنےاورسننےکی قوت دیکھنےکی قوت سے مُتَصادِم ہوتی ہےنہ ہی ان دونوں سے دیکھنےکی قوت ٹکراتی ہےنیزحواس خمسہ دیگراعضا  ء کی طرح بھی نہیں کیونکہ بعض اوقات  ہاتھ  کی جگہ پاؤں کی انگلیوں سے اشیاء پکڑی جاتی ہیں اگر چہ گِرِفْت کمزور ہوتی ہےمگر پاؤں ہاتھ کے کام میں شریک ضرور ہوجاتاہے۔عموماً کسی کومارنےکاکام ہاتھ سے لیاجاتاہے مگرکبھی کبھی  سربھی استعمال کرلیاجاتاہےتواس طرح  ہاتھ کے کام میں سَرشریک ہوگیاحالانکہ مارنے کا آلہ ہاتھ تھا۔ حواسِ خمسہ انسان کی طرح بھی نہیں کیونکہ ایک شخص کئی کام کرسکتاہے  مثلاً آٹاپیسنا، گوندھنا اور روٹی پکاناجبکہ ایک  حس فقط  ایک کام کرسکتی ہے مثلاً  آنکھ سے صرف دیکھ سکتے ہیں ،سن نہیں سکتے۔انسان کایہ وصف اِعتدال سےاِنحراف پر دلالت کرتا ہےجس کی وجہ  یہ ہے کہ انسان کی  طبیعت کئی قسم کی ہے توطبیعت ایک نہ  رہنے  کی وجہ سے عمل  بھی ایک نہ رہا۔اسی سبب سے انسان کبھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی فرمانبرداری کرتا ہے اور کبھی  نافرمانی  کیونکہ اس کی کئی طبیعتیں ہیں  جبکہ فرشتوں کی طبیعتوں میں یہ ممکن نہیں ہے بلکہ ان کی تخلیق فطری طور پر اطاعَتِ خُداوندی پرکی گئی  ہے۔ان سےنافرمانی کی گنجائش ہی نہیں یقینًایہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکم نہیں ٹالتے اور جو انہیں حکم ہووہی کرتے ہیں، رات دن اس کی پاکی بولتے ہیں اورسستی نہیں کرتے ۔ان میں بعض ایسے ہیں جوہمیشہ رکوع میں ہوتے ہیں بعض ایسے ہیں جوہمیشہ سجدہ کی حالت میں رہتے ہیں جبکہ بعض ایسے ہیں جوہمیشہ حالَتِ قیام میں رہتے ہیں۔ان کے افعال میں تبدیلی ہوتی ہے نہ ہی یہ کوتاہی  کرتےہیں ہرایک کا مقررکام اور مقام ہے وہ اس سے تجاوُز نہیں کرتا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی فرمانبرداری میں کسی طرح  بھی ان  کی جانب سے مخالفت متصوَّر نہیں۔فرشتوں کی اطاعت کوانسانی اعضاء کے ساتھ تشبیہ دے سکتے ہیں یعنی جس طرح اعضاء انسان کی حکم عدولی نہیں کرتے فرشتے بھی اپنے ربّ کی حکم عدولی نہیں کرتے مثلاً انسان پلکیں