جس کاایک پاؤں بچے کی طرح ہوتااور بقیہ جسامت مردکی طرح ۔چونکہ اس صورت میں انسان اپنےایک پاؤں سے نفع حاصل نہیں کرپاتا لہٰذاجسمانی مقدار کی رعایت کے لئے ایک فرشتہ مقررکیاگیا۔
یہ گمان نہیں کرنا چاہئے کہ خون خود سے شکل بدل لیتا ہے کیونکہ ایسے کاموں کو طبعی معاملہ قراردینے والا جاہل ہے وہ جانتا ہی نہیں کہ کیا کہہ رہا ہے جبکہ یہ توز مینی فَرِشتوں کاعمل ہے۔آپ نیند کی حالت میں آرام کررہے ہوں یاغفلت میں اِدھر اُدھرپھررہے ہوں یہ فَرِشتے ہر حال میں آپ کی غذا کی اصلاح کررہے ہوتے ہیں مگرآپ ان سے بے خبر رہتے ہیں۔یہ جسم کے تمام اجزا میں اصلاحی عمل کرتے ہیں حتّٰی کہ بعض اجزا مثلاً آنکھ اور دل وغیرہ سو سے زائد فرشتوں کے محتاج ہیں۔ہم نے اختصار کے پیشِ نظراس تفصیل کو چھوڑ دیا ہے۔
آسمانی فرشتےزمینی فرشتوں کی مدد کرتے ہیں ۔اس مدد کی کیفیت وترتیب کی حقیقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی جانتا ہے اور آسمانی فرشتوں کو عرش اٹھانے والے فرشتوں سے مدد حاصل ہوتی ہے اور ان سب کو خالِقِ کائنات عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ سے مددو ہدایت اور دُرُستی کی نعمتیں ہر لمحے مل رہی ہیں ۔
اَحادِیْثِ مُبارَکہ سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ فرشتے زمین وآسمان اور نباتات و حیوانات کے اجزاء حتّٰی کہ بارش کے ہر قطرے اوربادلوں پر مقرر ہیں ۔چونکہ اس بارے میں بے شمار احادیْثِ مُبارَکہ ہیں اسی لئے ہم نے انہیں ذکرنہیں کیا۔
فرشتوں کی کثرت کیوں؟
ان تمام افعال کے لئے ایک ہی فِرِشتہ کیوں مُقَرَّرنہیں کیا گیا؟ سات فَرِشتوں کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟ گندم کوغذابنانے میں کئی مراحل کاسامناہوتاہے مثلاً پیسنا، آٹا چھاننا، اس میں پانی ڈالنا، گوندھنا، گول گول پیڑےبنانا، اس کے بعد اسے روٹی کی شکل دینا پھراسے تَنُّور میں لگانا۔یہ تمام مراحل ایک ہی شخص طے کرسکتا ہے تو کیاایک فرشتہ یہ تمام مَراحِل اکیلے طے نہیں کرسکتا؟
جواب :انسان اور فرشتوں کی تخلیق میں بڑافرق ہے ۔ہرفِرِشتہ ایک خاص و صف کاحامل ہوتا ہے، انسان کی طرح انہیں دیگراوصاف نہیں دئیےجاتے اورہرایک پر اس کے وصف کے مطابق ہی کام مقرر ہوتاہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ارشاد گرامی میں اسی کی طرف اشارہ ہے: