اجسام کی شکل میں ہوتے ہیں جنہیں طاقت،مَعرِفت او ر اختیارات حاصل نہیں ہوتے۔یہ خودبخود حرکت کر سکتے ہیں نہ کسی شکل میں تبدیل ہوسکتے ہیں اورمحض طبیعت کے تقاضےکےسبب غذامختلف شکلوں میں تبدیل نہیں ہوسکتی جیساکہ گندم خود بخود پس جائے پھر آٹے کی شکل میں تبدیل ہوجائے اور آٹا روٹی کی صورت میں بدل جائے تو یہ ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے کسی عمل کرنےوالےکی ضرورت ہے۔ اسی طرح خون بھی خودبخودگوشت، ہڈیاں ،رگیں اور پٹّھے نہیں بنتا بلکہ کسی بنانے والے کی ضرورت ہوتی ہےاور یہ باطنی کام فرشتے انجام دیتے ہیں جیساکہ شہر والوں کے ظاہری کام کاج کاریگرانجام دیتے ہیں۔غورفرمائیےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انسان پرظاہری اورباطنی ہر قسم کی نعمتوں کا فیضان فرمایا توانسان کوان نعمتوں سےغافل نہیں ہونا چاہئے۔
سیِّدُناامام غزالی عَلَیْہِ الرَّحْمَہکی تحقیق:
میرے نزدیک گوشت اور ہڈی تک غذا پہنچانے کے لئے ایک فرشتہ مقررہوناضروری ہے کیونکہ غذا خود بخود حرکت نہیں کرتی نیز دوسرا فِرِشتہ گوشت اور ہڈی میں غذا روکنے کے لئے مقررہوتا ہے۔ تیسرا فرشتہ غذا سے خون بناتاہے۔ چوتھا فِرِشتہ اس خون کوگوشت ، رگ اورہڈی وغیرہ میں تبدیل کرتا ہے۔ پانچواں فرشتہ زائد غذاکو دور کرتاہے۔ چھٹا فرشتہ ہڈی بننے کی صلاحیت رکھنے والی اشیاءکو ہڈی سے ملاتاہے ۔ گوشت بننے والی اشیاء کو گوشت سے ملاتاہے تاکہ یہ علیحدہ نہ ہوجائیں۔ ساتویں فرشتےکاکام ان کو ملانے میں جسمانی مقدار کی رعایت کرناہے یعنی گول چیز کو اس طرح ملائے کہ گولائی زائل نہ ہو۔ چوڑی چیزکو اس طرح ملائے کہ چوڑائی باقی رہے۔کھوکھلی اور خلارکھنےوالی چیزکواس طرح ملائے کہ کھوکھلاپن اورخلاباقی رہے یعنی ہرعضو میں اس کی ضرورت کوپیْشِ نظررکھےمثلاًاگر بچے کی ناک پر ران کے برابرگوشت رکھ دیا جائے توناک بڑی ہوجائے گی اورخلا ختم ہوجائے گا نیز شکل و صورت بگڑ جائے گی۔اسی لئے ہرعضومناسب چیزوں پر مشتمل ہونا چاہئے مثلاً پلکیں باریک،آنکھ کے ڈھیلے میں صفائی، رانیں موٹی ، ہڈیاں سخت ہوں تو اس طرح ہرعضومناسب مقدار اور شکل میں ہوں گے ورنہ صورت بگڑ جائے گی اور بعض جسمانی اعضاء بڑھ جائیں گے اور بعض کم ہوجائیں گے۔ اگراس فرشتہ کے ذریعے معتدل تقسیم عمل میں نہ آتی کہ بچے کاہرعضو بڑھتا جاتااور ایک پاؤں جس طرح بچپن میں کمزوراورچھوٹا تھا ویسے ہی رہتا تو آپ ایک نئی مخلوق کو دیکھتے