Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
355 - 882
وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوۡہَا ؕ (پ۱۴،النحل:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراگر اللہ کی نعمتیں گِنو تو شمار نہ کرسکو گے۔
	کے ذریعےمنع فرمادیا۔اگرہم نے کچھ کلام کیا تواسی کی اجازت سے کیااور کرتے گئے۔اگرہم خاموش رہےتواسی کے غلبہ وقدرت سے خاموش ہوئےکیونکہ  جس چیز سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ روک دے اسے کوئی نہیں دےسکتا اور جو کچھ عطا کرے اسے کوئی روک نہیں سکتا اس لئے کہ ہم زندگی کے ہر ہرلمحے میں دل کے کانوں سے ربّ تعالیٰ کایہ کلام سنتے ہیں:  لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ؕ لِلہِ الْوَاحِدِ الْقَہَّارِ ﴿۱۶﴾ (پ۲۴،المؤمن:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان: آج کس کی بادشاہی ہے،ایک اللہ سب پر غالب کی ۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر ہے جس نے ہمیں کفار سے ممتاز کرتے ہوئے زندگی ہی میں یہ  فرمان سنادیا۔
تخلیْقِ ملائکہ میں نعمَتِ خداوندی :
	 واضح ہوکہ انبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام تک خیر اور وحی پہنچانے کے اعتبارسےفَرِشتوں کی پیدائش نعمت ہےجیساکہ  پہلے گزرا۔آپ یہ گمان نہ کرلیجئے گا کہ ان کا صرف یہی کام ہے کہ انبیائےکرام  عَلَیْہِمُ السَّلَام تک خیراور وحی پہنچانےکاواسطہ بنیں بلکہ فَرِشتے کثرتِ تعداد اور مَراتِب کے اعتبار سے تین طَبَقات میں تقسیم ہیں:(۱)…زمینی فرشتے(۲)…آسمانی فرشتے(۳)…عرش کواٹھانےوالے فرشتے۔ غور فرمائیے کہ کس طرح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے کھانے اور غذا سے متعلق اُمور پران فرشتوں کو مُقَرَّر فرمایا ہے۔ یہاں رُشدو ہدایت پر مقرر فرشتےہماری  گفتگوکاحصہ نہیں ۔
فرشتوں کی صورت میں نعمتیں:
	یادرہے !انسانی جسم یانباتات  کےجسم کاکوئی جزاس وقت تک غذا حاصل نہیں کرسکتاجب تک اس پر کم سے کم سات فرشتے مقررنہ ہوں جبکہ زیادہ کی کوئی حد نہیں ۔ غذاکامعنیٰ یہ ہے کہ غذا کا جُز  اس جُز کے قائم مقام بنے جو ضائع ہوگیا ہے اور یہی  غذا آخری مرحلےمیں خون بن جاتی ہے پھر گوشت اور ہڈی بن جاتی ہے۔گوشت اور ہڈیوں کی شکل اختیار کرنے کے بعد یہ کامل  غذائیت بن جاتی ہے۔خون اور گوشت دونوں