Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
354 - 882
 ہستیاں  حکمرانوں کی اِصلاح  فرمائیں اور انہیں  رعایا کے ساتھ عدل و انصاف کے شرعی قوانین بتائیں اور انہیں رعایا کی نظم و ضبط کے لئے ملکی معاملات سمجھائیں نیزان پرحکومت و سلطنت کے احکام واضح فرمائیں اور دین ودنیاکی اصلاح کے لئےفقہی احکام ان پرواضح فرمائیں۔
نعمَتِ وحی:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اس نعمت پرغورکیجئےکہ کس طرح فَرِشتوں کے ذریعےانبیائےکرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کووحی فرمائی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اُس نعمت پرغورکیجئےکہ کس طرح فَرِشتے ایک دوسرے کی بھلائی چاہتے ہیں حتّٰی کہ یہ سلسلہ  اُس مُقَرَّب فَرِشتےتک پہنچاجس کے اور اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔
غذا کی اصلاح اور اس کے آلات کی تیاری: 
	نانبائی روٹی کی تیاری واصلاح گوندھے ہوئے آٹے سےکرتا ہے۔ پِسائی کرنےوالااس کی اصلاح  پِیس کرکرتا ہے۔ کسان کھیتی کی اصلاح  کاٹ چھانٹ  کے ذریعے کرتا ہے۔ لوہار کاشتکاری کے آلات  کی اصلاح کرتا ہے۔لوہار کےتیارکردہ  آلات کی مزیداصلاح بڑھئی کرتا ہے۔اسی طرح تمام  پیشہ ورحضرات اورکاریگر غذاؤں کی تیاری میں آنےوالے آلات کی اصلاح کرتے ہیں۔حکمران اپنےماتحت  کاریگروں کی اصلاح کرتےہیں۔انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اپنےوارثین یعنی  عُلَمائےکرام  کی اصلاح فرماتے ہیں اور علمائے کرام حکمرانوں کی اصلاح فرماتے ہیں۔اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ فَرِشتوں کے ذریعےانبیائےکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی جانب وحی فرماتا ہےحتّٰی کہ یہ سلسلہ باری تعالیٰ  کی    ذات  تک  پہنچ جاتاہے جو ہر نظام وانتظام کی اصل ہے۔یہ سبربُّ الْارباب اور مُسَبِّبُ الْاَسْبَاب کی نعمتیں ہیں۔اگر اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ اپنےفضل وکرم سے یہ  نہ فرماتا:  وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ (پ۲۱،العنکبوت:۶۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے۔
	تو ہمیں کسی  نعمت کی پہچان حاصل نہ ہوتی اور اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں نعمتیں شمارکرنےسے نہ روکتا تو ہمارے اندران کےشمارکرنے کا شوق  پیداہوتا مگراس نےاپنے غَلَبہ اور قدرت کےسبب اس فرمانِ پاک: