لَوْ اَنۡفَقْتَ مَا فِی الۡاَرْضِ جَمِیۡعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمْ وَلٰکِنَّ اللہَ اَلَّفَ بَیۡنَہُمْ ؕ(پ۱۰،الانفال:۶۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اگر تم زمین میں جو کچھ ہے سب خرچ کردیتے ان کے دل نہ ملا سکتے لیکن اللہ نے ان کے دل ملادیئے۔
تواسی اُلفت ومحبت اورارواح کے باہمی تعارُف کی وجہ سے لوگ متحدومدد گارہوگئےاورانہوں نے ویرانوں کوآبادکرکے شہربسائے،بستیاں آبادکیں،ایک دوسرے سے متصل گھر تعمیرکئے، بازار اور دکانیں بنائیں ،کئی کئی قسم کے کارخانے بنائے۔
حکمرانوں کے ذریعے رعایاکی اصلاح :
پھر یہ محبت ان کاموں میں ختم ہوگئی جن میں مقابلہ اور سبقت کی جاتی ہے چونکہ انسانی فطرت میں حرص و حسد اور غضب و غصہ بھی ہے اس لئےآپس میں یہ لڑائی جھگڑے بھی کرتے ہیں۔ بسااوقات یہی لڑائی جھگڑےقتل وغارت کاباعث بن جاتے ہیں۔غور فرمائیے !کس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان پر حکمرانوں کومُسَلَّط کیا،انہیں قوت و ہتھیار فراہم کئے، رعایا کے دلوں میں ان کا رُعب ودبدبہ ڈالا تاکہ وہ نظم وضبط کے مُعاملے میں خوشی و ناخوشی سےاحکامات پرعمل کریں نیزاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حکمرانوں کومُلْک ومِلَّت کےنظم وضبط دُرُست رکھنےکاسلیقہ بتایا تو انہوں نے ملک کومختلف حصوں میں تقسیم کردیا۔یہ حصےایک دوسرے کے لئے مددگارثابت ہوتے ہیں جس طرح جسم کے مختلف اعضاء ایک دوسرے کے لئےمددگارہوتے ہیں۔یہی حکمران ہر شہر میں قاضی وحاکم وغیرہ مقرر کرتے ہیں تاکہ یہ لوگوں کوعدل وانصاف پرمبنی قوانین کی پابندی کروائیں۔حکمرانوں نےلوگوں کوباہمی تعاون کا پابند بنایا حتّٰی کہ لوہار، قصاب اور نانبائی تمام شہر والوں سے نفع اٹھانےلگے اور شہروالےان سے نفع حاصل کرنےلگے۔حجام کسان کےذریعےاورکسان حجام کے ذریعے نفع اٹھانے لگا۔ حکمرانوں کی ترتیب اورنظم وضبط کے مطابق یہ نفع اندوزی ایسے ہی ہے جیسےتمام جسمانی اعضاء ایک دوسرے سے تعاون کرتے اور نفع اٹھاتے ہیں۔
انبیاعَلَیْہِمُ السَّلَامکےذریعےحکمرانوں کی اصلاح :
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احسان پر غورکیجئےکہ اس نے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو مَبْعُوْث فرمایا تا کہ یہ مُقَدَّس