Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
352 - 882
 مکمل شکل اختیار کرنے  میں سوئی بنانے والوں کے ہاتھوں سے کئی کئی مراحل سے گزرتی ہے اور  ہر بار کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مختلف شہروالوں کوایک دوسرےکاوسیلہ نہ بناتا اوربندوں کو پابند نہ فرماتا تو انسان کی ساری عمرگندم کاٹنےکے لئےصرف ایک درانتی بنانےمیں خرچ ہوجاتی اور درانتی بھی نہ بن پاتی مگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی شان دیکھئے کہ اس نے انسان کوناپاک نُطْفےسے پیداکرنےکے باوُجودکیسے کیسےعجیب و غریب آلات بنانے کے گُربتادیئے مثلاً قینچی کو دیکھئے کہ اس کے دوپلے ایک دوسرے سے چمٹےہوتے ہیں مگر چیز کو لیتے ہی تیزی سے کاٹ دیتے ہیں۔اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے فضل و کرم سےہمیں  اس کے بنانے کا طریقہ نہ بتاتا تو ہم اپنی سوچ سے اس کو بنانے پر مجبور ہوتےاور ہمیں پتھر سے لوہا نکالنا پڑتا پھرقینچی بنانے والے آلات کی ضرورت بھی پیش آتی پھر اگر ہمیں حضرت سیِّدُنانوح عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کےبرابر (ہزارسالہ)زندگی حاصل ہوتی  اورنہایت کامل بصیرت بھی دی جاتی تو بھی ہم قینچی بنانے کاطریقہ  معلوم نہ کرپاتے  دوسری اشیاء بنانے کی بات تو دور کی ہے۔ پاکی ہے اسےجس نے بے بصیرت لوگوں میں کامل بصیرت والوں کوبھی شامل کردیا اوراس بیا ن کے اظہار سےروک دیا۔
	 غورفرمائیے!اگرکسی شہرمیں لوہاریاآٹا پیسنے والایاپچھنے لگانےجیسےکم تر کام کرنےوالانہ ہوتایا کوئی جُلاہایاکسی بھی قسم کاکوئی کاریگرنہ ہوتا تو انسان کوکتنی پریشانی کاسامناہوتا؟انسان تمام کاموں میں کس قدر اِضطراب کاشکارہوجاتا؟پاکی ہےاس ذات کو جس نےایک انسان کودوسرے کے لئے مُسَخَّرفرمایا اسی سے اس کی مَشِیَّتِ نافِذہ اور حِکْمَتِ کامِلہ کاپتاچلتاہے ۔
	اس سلسلے میں بھی ہم نےمختصر کلام کیا کیونکہ ہماری غرض آگاہی ہے ،تمام نعمتوں کا اِحاطہ مقصود نہیں۔ 
مصلحین کی اصلاح کے ضمن میں  نعمتیں: 
	اگرغذا وغیرہ تیار کرنےوالوں کی آراء مختلف ہوجائیں یا وحشیوں  کی طرح ان کی طبیعتوں میں نااتفاقی کی فضاپھیل جائےتوایک دوسرے سے دوری پیدا ہوجائےگی۔جس طرح وحشی ایک دوسرے کو نفع پہنچانے کا ذہن نہیں رکھتے اور ایک جگہ رہ نہیں پاتے نیز کسی مقصدپرمُتَّحِد نہیں  ہوتے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی اس نعمت پر غور کیجئے کہ اس  نے لوگوں کے دلوں کو کس طرح ملاکرآپس میں اُلفت ومحبت  پیدافرمادی۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: