Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
350 - 882
غذاؤں کےنقل وحمل سے متعلق نعمتیں:
	ہرقسم کی غذائیں ہر جگہ مُہَیّانہیں ہوتیں  بلکہ چندمخصوص شرائط کے ساتھ کہیں مُہَیّاہوتی ہیں اور کہیں مہیا نہیں ہوتیں۔غذاؤں کواستعمال کرنےوالےپوری دنیامیں پھیلے ہوئے ہیں۔غذائیں ان کی پہنچ سے دور تھیں درمیان میں وسیع وعریض سمند اورخشکی کے طویل راستے تھےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان تک غذاکی رسائی تاجروں کےذریعےممکن بنائی۔تاجروں کے دلوں میں مال کی حرص اور نفع  کی خواہش پیدافرمائی حالانکہ عام طورپر مال سے نفع حاصل نہیں کرپاتے کیونکہ جمع شدہ اَموال کشتیوں سمیت ڈوب جاتے ہیں یا ڈاکو لوٹ لیتے ہیں یاتاجروں کے دوسرے شہروں میں مرنے کے سبب اموال کو(لاوارث بتاکر)حکمران اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں اوراگر ایسا نہ ہو تو وُرَثا ان کے اموال  پرقابض ہوجاتے ہیں حالانکہ انہیں اگر پہلے علم ہوجائے تو یہی ان کے بڑے دشمن ہوتے ہیں ۔
	غور فرمائیے!اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے ان پر غفلت اور جہالت کے کیسےپردےڈال دیئےہیں کہ وہ نفع حاصل کرنےکے لئےسختیاں برداشت کرتے ہیں ،خطروں سے کھیلتے ہیں،سمندر ی سفرکے دوران تیز ہواؤں  کا سامنا کرتے ہیں پھربھی طرح طرح کی غذائیں اور ضرورت کی چیزیں مشرق و مغرب تک پہنچاتے ہیں نیز اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے انہیں کشتیاں بنانے اور ان میں سُوار ہونے کا طریقہ سکھایا۔اس نے حیوانات پیدا فرماکر انہیں جنگلوں اور صحراؤں میں سواری اور بوجھ اٹھانے کے لئے مُسَخَّر کیا۔اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی قدرت تودیکھئےکہ کس طرح جانوروں کوان کےمناسب اوصاف عطاکئےمثلاً  گھوڑے کو تیز رفتاری عطاکی۔ گدھے  میں مَشَقَّت پر صبر کی طاقت رکھی۔ اونٹ میں بھوکا پیاسارہ کربھاری بوجھ اٹھاکرصحراؤں کو طے کرنےکی قوت بخشی۔ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی قدرت پر غورکیجئےکہ وہ کس طرح  تاجروں  کو کشتیوں کے ذریعے سمندر میں اور حیوانات کے ذریعے   خشکی  میں سفر کرواتا ہے تاکہ وہ آپ تک غذااوردیگر ضروری اشیاء پہنچائیں ۔ غرض یہ کہ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ نےغذاؤں کے نقل وحمل سے متعلق اشیاء اس قدرکثرت سے پیدا کی ہیں جن کا شمارممکن نہیں،لہٰذا اختصار کے پیْشِ نظر ہم ان کا ذکر نہیں کریں گے ۔ 
غذاکی تیاری میں موجودنعمتیں :
	یادرکھئے!نباتات و  حیوانات سے حاصل ہونے والی ہر غذا کو دانتوں سے چباکر  کھانا ممکن نہیں ہے بلکہ