Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
35 - 882
شیطان کے مکرو فریب سے بچنازیادہ اہم ہے:
	اُن لو گو ں کے اَحوال میں غور کیجئے جو مخلو ق میں سب سے بڑھ کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی معرفت رکھتے ہیں، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ، اس کی خُفْیَہ تدبیراوراس سے دھوکے میں رکھنے والے پوشیدہ مقامات کو اچھی طرح پہچانتے ہیں۔اگر تم پر دنیا کے دھوکے سے بچنا ایک بار لازم ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بارے میں بڑے فریبی(شیطان) کے دھوکے سے بچنا ایک لاکھ مرتبہ لازم ہے۔ یہ وہ اسرار ہیں کہ اگر کوئی بندہ ان کی خوشبو بھی پالے تو وہ جان لیتا ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے راستے پر چلنے والا اگرچہ حضرت سیِّدُنا نوحنَجِیُّاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جتنی زندگی رکھتاہو اس پر ہرگھڑی نَصُوحی توبہ (یعنی آئندہ گناہوں سے بچ کر اطاعتوں سے معمورہونا)لازم ہے اور یہ کسی مہلت کے بغیر فوراً واجب ہے۔
فرمانِ سیِّدُنا سلیمان دارانی:
	حضرت سیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی نے سچ فرمایا ہے:”اگر عقل مند  اپنی باقی ماندہ زند گی میں صرف اس بات پر روئے کہ سابقہ زند گی اطاعت وعبادت کے بغیر گزر کر ضائع ہو گئی تو اسے مرتے دم تک غمزدہ رہناہی مناسب ہے تو پھر اس کا کیا حال ہونا چاہئے جو ماضی کی طرح مستقبل بھی میں جہا لت کا شکار ہے۔“
	آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا یہ فرمان اس لئے ہے کہ عقل مند انسان کو اگر کوئی عمدہ ونفیس موتی ملے اور کوئی فائدہ اٹھائے بغیر وہ موتی ضائع ہوجائے تو لامُحالہ وہ اس پر روئے گا اور اگر اس کا ضا ئع ہونا اس کی ہلاکت وبربادی کا سبب ہو تو اس کا رونا زیادہ شدید ہوگا تو زند گی کی ہر گھڑی بلکہ ہر سانس ایک نفیس موتی ہے جس کا کوئی نِعْمُ الْبَدَل نہیں، یہ نفیس موتی ایسی صلاحیت رکھتا ہے کہ تمہیں اَبَدی سعادت تک پہنچادے اور دائمی بدبختی سے بچالے۔ اس سے بڑھ کر نفیس جوہر کیا ہوسکتا ہے؟ پس اگر تم اسے غفلت میں ضا ئع کردوگے تو کھلم کھلا نقصان اٹھاؤگے اور اگر اسے گنا ہ میں لگا دوگے تو بدترین ہلاکت سے دوچار ہوجاؤگے۔ اب اگر تم اس مصیبت پر نہیں روگے تو یہ تمہا ری جہا لت کے سبب ہوگا اور تمہاری جہالت کے سبب تمہیں پہنچنے والی مصیبت تما م مصیبتوں سے بڑھ کر ہے۔ مگر جہالت ایسی مصیبت ہے کہ اس کے سبب جسے مصیبت پہنچتی ہے اسے پتاہی نہیں چلتا کہ وہ مصیبت کا شکار ہے کیونکہ غفلت کی نیند اس کے اور اس کی پہچاننے والی صِفَت (یعنی