Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
349 - 882
 عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾ (پ۴،اٰل عمران:۱۹۱)
پاکی ہے تجھے تو ہمیں دوزخ کےعذاب سے بچالے۔
	پھر  فرمایا:”وَیْلٌ لِّمَنْ قَرَاَھَذِہِ الْاٰ يَةَ ثُمَّ مَسَحَ بِھَا سَبَـلَـتَـہٗ یعنی اس شخص کے لئے خرابی ہے جو یہ آیت پڑھے پھر مُونچھ پر ہاتھ پھیر لے ۔“(1)
	حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت کوپڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر غوربھی کیاجائےاورنظرکوآسمانی سلطنت  کی  رنگت وہیئت اورطُول وعَرْض  تک محدودنہ رکھاجائےکیونکہ اتناتوجانوروں  کو بھی پتا ہوتاہےلہٰذا  جو شخص صرف اتناہی جانے گا وہ مونچھ  پر ہاتھ پھیر نے والاہے۔ 
انسان وحیوان میں ربّ تعالیٰ کےعجائبات ہیں:
	سورج،چاندستارے،ساتوں آسمان اور تمام انسان وحیوان  میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّکےعجائبات ہیں ۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے محبت کرنےوالے لوگ ان عجائبات کو جاننے کےطلب گار رہتے  ہیں کیونکہ جو شخص کسی مصنف سے محبت کرتا ہے وہ ہمیشہ اس کی تصانیف کی تلاش  میں لگا رہتاہے تاکہ اس کے علمی شاہکار سے آگاہی حاصل کرتا رہے۔تمام جہاں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تصنیف ہے بلکہ مخلوق کی تصانیف بھی اسی کی تصانیف ہیں کہ اس نے اپنے بندوں کے دلوں  میں یہ بات ڈالی ۔اگرآپ کو کسی کی لکھی ہوئی کتاب پسندآئےتولکھنےوالے پر تعجب نہ کریں بلکہ اس ذات کاشکر اداکریں جس نے لکھنےوالےکوتوفیق بخشی اور اسے کتاب لکھنے کی ہدایت وتعلیم دی جیساکہ کسی پتلے کو رقص کرتے، موزوں و مناسب حرکات کرتےدیکھ کرتعجب نہیں ہوتاکیونکہ یہ تو کپڑے کا ایک ٹکڑا ہےجو خود حرکت نہیں کرتابلکہ اسے حرکت دی جاتی ہےتعجب تو مَداری پر ہے جو پردے کے پیچھے سےاسے قابو کرکے دکھا رہاہے اور اپنی ذہانت و مَہارت کےذریعےنظرنہ آنے والے باریک دھاگوں سے حرکت دے رہا ہے۔
 	مقصود یہ ہے  کہ کھیتیوں کی غذا کی تکمیل ہَوا،پانی ، سورج ، چاند اور ستاروں کے بغیر نہیں ہوسکتی اور سورج ،چاند ستاروں کی حرکت اپنے مَدار کے بغیر نہیں ہوسکتی جو ان کامَحْور ہےاور انہیں حرکت دینے والے فَرِشتے ہیں۔یوں ايك عمل دوسرے عمل كاسبب بنتارہتا ہے اور جتنا ہم نے بیان کردیا وہ بَقِیَّہ پر آگاہی کے لئےکافی ہےلہٰذا ہم یہاں اپنی گفتگو کھیتی کی  غذائیت  والے اسباب پرختم کرتے ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… جمع الجوامع،۸/ ۱۰۸،حدیث:۲۴۸۰۳،بتغیر