لئے کہ ان کی بتائی ہوئی باتیں اندازوں پر مبنی اور حقائق سے خالی ہوتی ہیں۔عِلْمِ نجوم ایک نبی عَلَیْہِ السَّلَام کوبطورِ معجزہ عطاکیاگیا تھا اور ا ن کے بعدیہ علم ناپیدہوگیااب جو کچھ باقی ہے اس میں (غلط کی)آمیزش ہوگئی ہے جس کی وجہ سے صحیح غلط کی تمیز نہ رہی۔
ستاروں کے اثرات ماننا:
اگرکوئی شخص ستاروں کےاثرات کو اس عقیدے کے ساتھ مانتاہے کہ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حکمت وتدبیر کے سبب زمین،نباتات،حیوانات پراثرانداز ہوتے ہیں تویہ عقیدہ دین میں خرابی پیدا نہیں کرتا بلکہ یہ عقیدہ دُرُست ہےالبتہ اگرکوئی نہ جاننے کے باوجودیہ دعوٰی کرے کہ وہ ستاروں وغیرہ کی علامات کومکمل طورپر جانتاہے توجَہالت پر مبنی یہ دعوٰی دین کی خرابی کاسبب ہے۔
چاند ،سورج اور ستاروں کے اثراندازہونےکی مثال:
اگر آپ نے کپڑے دھو کر خشک کرنےکاارادہ کیااورکوئی آکرکہے:” دھوپ نکل چُکی ہے نیزگرم ہوا چل رہی ہےآپ اپنےکپڑے ڈال لیں۔“توآپ اسے نہیں جھٹلائیں گے ،نہ ہی سورج کی وجہ سے چلنے والی گرم ہوا پر اعتراض وتنقید کریں گے۔یونہی اگرآپ نےکسی سے چہرے کی رنگت تبدیل ہونےکاسبب پوچھا تواس نے کہا:”دھوپ کی وجہ سے ایسا ہوا۔“یقیناً آپ اسے جھٹلا نہیں سکتے کیونکہ یہ ایسا سبب ہے جس کا انکار ممکن نہیں تو باقی تمام علاما ت واثرات کااسی سےاندازہ لگالیجئے۔
لیکن یادرہے!بعض علامات واثرات کاعلم ہوجاتاہےمگربعض کاعلم نہیں ہوپاتاجن علا مات واثرات کاعلم نہ ہوان کے بارے میں علم کا دعوٰی کرناغلط بات ہے۔چنانچہ بعض علامات و اثرات کاعلم سب کو ہوتا ہے جیسے سورج کے طلوع ہونے سے روشنی اورگرمی ہوجانا۔بعض علامات و اثرات کاعلم چندمخصوص لوگوں کو ہوتا ہے جیسے چاند کی نمی سے زُکام ہوجانا ۔
خلاصہ یہ ہے کہ چاند ،سورج اور ستارے بےکار نہیں بلکہ ان میں بے شمار حکمتیں پوشیدہ ہیں اسی لئے سَیِّدِعالَم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےآسمان کی طرف نگاہ اُٹھا کر یہ آیت تلاوت فرمائی:
رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبْحٰنَکَ فَقِنَا
ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا