Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
347 - 882
 کے لئے پابندہے۔غَرَض یہ کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ہرنعمت میں بے شمار حکمتیں ہیں جن کا شمار طاقَتِ انسانی  سے باہر ہے۔ان حکمتوں  کوتسلیم کرنا ضروری ہے ورنہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتوں کو بے کار و باطل ماننالازم آئےگانیز ان دوفرامیْنِ باری تعالیٰ کی تکذیب لازم آئی گی :
(1)…  رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بٰطِلًا ۚ (پ۴،اٰل عمران:۱۹۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا۔
(2)… وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَمَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۳۸﴾ (پ۲۵،الدخان:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان: اور ہم نے نہ بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر۔
کوئی چیزبے کارنہیں :
	جس طرح انسان کےجسم کا کوئی عُضْوبے کارنہیں یونہی دنیاکی کوئی چیزبے کارنہیں۔پورا عالَم ایک شخص کی طرح ہے اور اس میں پائی جانےوالی اشیاء اعضاء کی طرح ہیں۔یہ اشیاء ایک دوسرے سے اسی طرح تعاوُن کرتی ہیں جس طرح انسانی اعضاء ایک دوسرے سے تعاوُن کرتے ہیں۔اگران کی  حکمتوں پر تفصیلی گفتگو کی جائے تو تشریح بہت طویل  ہوجائے گی ۔
علم نجوم اور اس کی تصدیق:
	یہ کہنا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےسورج،چاند،ستاروں کوبطور ِاسباب فلاں فلاں  حکمت کے تحت  پابند فرمایا ہے دُرُست نہیں اور  اس پر ایمان لانا خلافِ شریعت ہے۔ حدیثِ پاک  میں عِلمِ نجوم اور نجومیوں کی باتوں کی تصدیق کرنے سے منع کیاگیاہے ۔(1)اور اس مُمانَعَت کے سلسلے میں دو چیزیں ہیں :
(1)…عِلْمِ نُجُوم اورنُجُومیوں کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق اس عقیدے کے ساتھ کرناکہ ستارےوغیرہ خود بخود سب کام انجام دیتے ہیں نیزیہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تدبیر کے تحت نہیں ہیں تو یہ عقیدہ کفر ہے۔
(2)…نُجومیوں کی بتائی ہوئی باتوں کو جنہیں ہر شخص سمجھ نہیں  پاتا حرف بحرف صحیح سمجھنابھی غَلط ہے اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن ابی داود، کتاب الطب، باب فی النجوم،۴/  ۲۱،حدیث:۳۹۰۵، ۳۹۰۶