Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
346 - 882
 کوتباہ وبرباد کردیں اور کھیتی و جانور ہلاک ہوجائیں۔خلاصہ یہ ہے کہ پہاڑوں،بادلوں، سمندروں اور بارشوں میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بے شمار نعمتیں ہیں۔
سورج کےفوائد:
	پانی اورمٹی دونوں ٹھنڈے ہوتے ہیں اور ان کے ملاپ سے حرارت حاصل نہیں ہوسکتی تو حرارت کےلئے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے سورج کو پیدا فرمایا۔زمین سےمیلوں دور ہونے کے باوجود اسے پابند  بنایا گیا کہ وہ  فقط ایک وقت زمین کو حرارت پہنچائے، دوسرے وقت نہیں تاکہ ٹھنڈک کی ضرورت ہو تو ٹھنڈک ملے اور حرارت کی حاجت ہوتو حرارت ملے ۔یہ تو فقط ایک فائدہ ہے ورنہ فوائد  تواس کے بے شمار ہیں۔
چاند کےفوائد:
	پودوں  اور درختوں میں نکلنے والے پھل ابتداءً  سخت اورکچے ہوتے ہیں،انہیں پکانے کے لئےنمی کی ضرور ت پیش آتی ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس مقصد کوپورا کرنے کے لئے چاندکوپیدا فرمایا جس میں نمی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھی جیساکہ سورج  میں حرارت کی خاصیت رکھی۔چاند پھلوں اورمیووں  کو پکاتا اور انہیں قدرتی رنگ دیتا ہے۔یہ سب حکمت والے خالِقِ کائنات کی طرف سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر درخت یاپودےکسی ایسی جگہ ہوں جہاں سورج کی گرمی اور چاند ستاروں کی روشنی نہ پڑے تودرخت وپودے بے کار وخراب ہوجاتے ہیں حتّٰی  کہ اگر چھوٹا درخت بڑے درخت کےسائے میں ہو تو وہ خراب ہوجاتا ہے۔
چاند کی نمی معلوم کرنے کاطریقہ :
	چاند کی نمی کاتجربہ کرناہوتوآپ چاند کی روشنی میں ننگے سَرٹھہرجائیے تو آپ کوسرمیں  نمی محسوس ہوگی  اور زُکام کاسبب یہی نمی ہواکرتی ہے۔معلوم ہواکہ چاند جس طرح سر میں نمی پہنچاتا ہے اسی طرح پودوں اوردرختوں کو بھی نمی  پہنچاتا ہے۔ہم اس کے متعلق مزید گفتگونہیں کریں گے کیونکہ اس کے متعلق تفصیلی گفتگو کرنا ہماری غرض نہیں۔
	خلاصہ یہ ہے کہ ہرسَیارہ کوئی نہ کوئی  فائدہ پہنچانے کاپابند ہےجیساکہ سورج حرارت اور چاند نمی  پہنچانے