الْمَآءَ صَبًّا ﴿ۙ۲۵﴾ ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا ﴿ۙ۲۶﴾ (پ۳۰، عبس:۲۴ تا ۲۶)
ہم نے اچھی طرح پانی ڈالا پھر زمین کو خوب چیرا۔
پھرصرف پانی اور مٹی کھیتی کے لئے کافی نہیں کیونکہ اگر آپ نےبیج کسی ٹھوس اورتر زمین میں ڈالا تو ہوا کی آمدورفت نہ ہونے کی وجہ سے غلہ نہیں اُگے گاپس بیج کونَرْ م وکھوکھلی زمین میں ڈالنے کی ضرورت پیش آئی تاکہ اس میں ہَوا داخل ہوسکے۔معمولی ہوابھی مفید نہیں بلکہ ایسی تیزہوا ہونی چاہئے جوزورسے زمین پر لگے اوربیج کے اندرچلی جائے اسی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یوں بیان فرمایا: وَ اَرْسَلْنَا الرِّیٰحَ لَوٰقِحَ (پ۱۴،الحجر:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے ہوائیں بھیجیں بادلوں کو باروَر کرنے والیاں۔
یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی تیز ہوائیں بادلوں سے ٹکراتاہے تاکہ پانی مٹی اورہو اکے درمیان تعلق قائم ہواور تب کھیتی اُگتی ہے نیزموسم بھی بہت زیادہ ٹھنڈااور سرد نہ ہو بلکہ بہاراورگرمی کاموسم ہو۔
معلوم ہواکہ کھیتی کے لئے چار چیزیں ضروری ہیں:(۱)ہوا(۲)پانی(۳)زمین(۴)گرم موسم۔ پھرہم خود دیکھ سکتے ہیں کہ کھیتی کے سلسلےمیں ان میں سے ہر ایک کےلئےکئی چیزوں کی ضرورت پیش آتی ہے مثلاً:پانی کے لئے سمندر، دریا، چشمہ اورنَہْرو نالی کی ضرورت پڑتی ہےتواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہماری سہولت کے لئے سمندربنائے چشمے اور نہریں جاری فرماکرضروریات پوری کیں ۔
بادَلوں اور پہاڑوں کے فوائد:
بعض خطے بلندی پر واقع ہوتے ہیں جن تک پانی نہیں پہنچ پاتا تو ان کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بادل بناکر ان پر ہَوا کو مسلّط کردیا تاکہ ہَواحکْمِ خداوندی سےبادلوں کو زمین کے چپے چپے پر گھمائےاوربارش کے ذریعے ہر جگہ پانی پہنچ جائے حالانکہ بادلوں میں پانی بھراہوتاہے اور یہ بہت بھاری ہوتے ہیں۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت دیکھئے کہ کس طرح وہ کھیتی کی ضرورت کے مطابق ربیع اور خریف کے موسم میں بارش برساتاہے۔
پھر دیکھئےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پہاڑوں سے چشمے جاری فرمائے اور پہاڑوں کو ان چشموں کا محافظ بنایا ۔ یہ چشمے بتدریج بہتے ہوئے نشیبی علاقوں کو سیراب کرتے ہیں۔ اگر یہ ا یک دم تیزی سے بہہ نکلیں تو شہروں