مکمل طورپر خودکو پہچان نہیں سکتا وہ ربّ تعالیٰ کو بھی پہچان نہیں سکتا۔“
یہ سب باتیں اَطِبَّا کی کتابوں میں کہاں ہوتی ہیں؟اس مقام کوکوئی طبیب کیسے ملاحظہ کرسکتا ہے ؟ امْرِ ربَّانی اوراَطِبَّا کی بیان کردہ ” روح “کے درمیان اسی طرح کا فرق ہے جو بادشاہ اور اس کے بَلّے سے پھینکی ہوئی گیند میں فرق ہےلہٰذا جو شخص طبی روح کو جاننے کے بعد یہ گمان کرے کہ اس نے امْرِ ربانی کو پالیا وہ اس شخص کی طرح ہے جو بادشاہ کی پھینکی ہوئی گیند کودیکھ کرکہے:”میں نے بادشاہ کو دیکھ لیا۔“بلاشبہ یہ واضح غَلَطی ہے بلکہ طبی روح کوامْرِربانی سمجھنا توبہت بڑی خطا ہے ۔امْرِرَبّی ایسارازہے کہ عقْلِ انسانی اس کی حقیقت جاننے سے قاصر ہے حالانکہ عقل کی وجہ سےآدمی عبادات کا مکلَّف ہوتا ہے نیزاسی کے ذریعے دنیاوی مُعاملات انجام دئیے جاتے ہیں اور چونکہ یہ رازہے اِسی لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو لوگوں میں اس کی حقیقت بیان کرنےکی اجازت نہیں دی بلکہ آپ کوحکم تھا کہ لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق گفتگو فرمائیں نیزاللہ عَزَّ وَجَلَّنے بھی اپنی کتاب قرآنِ کریم میں اس امر کی حقیقت بالکل ذکر نہیں فرمائی بلکہ اس کی نسبت و فعل کا ذکر فرمایااورحقیقت کومخفی رکھا۔چنانچہ نسبت کا ذکر کرتے ہوئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:” مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ “(ترجمۂ کنز الایمان:میرے ربّ کےحکم سے۔ پ۱۵،بنی اسرائیل:۸۵) جبکہ فعل کاذکرکرتے ہوئے ارشاد فرمایا: یٰۤاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ﴿۲۷﴾٭ۖ ارْجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ﴿ۚ۲۸﴾ فَادْخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ ﴿ۙ۲۹﴾ وَ ادْخُلِیۡ جَنَّتِیۡ ﴿٪۳۰﴾ (پ۳۰،الفجر:۲۷ تا ۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے اطمینان والی جان اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی، پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہواور میری جنّت میں آ۔
اب ہم دوبارہ اپنے مقصدِتحریر کی طرف آتے ہیں اور ہمارامقصود کھانے کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں بیان کرناتھااورکھانے کے آلات کے ضمن میں ہم نے بعض نعمتوں کا ذکر کردیا ۔
غذاکی تیاری میں نعمتیں اوراسباب:
یہاں وہ اُموربیان کئےجائیں گے جن کے ذریعے انسان خودغذاتیار کرنے کے قابل ہوجاتاہے ۔
جان لیجئے!غذائیں بہت قسم کی ہیں اور ان کی تخلیق میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بے شمار عجائبات رکھے ہیں نیز