پٹھوں کے جال میں سرایت کرکے دل سے گزرکرتمام جسم میں پھیلتی ہے۔ روح کاجومعنیٰ اَطِبَّا نےبیان کیاہے اسے سمجھناکوئی مشکل کام نہیں ہےلیکن وہ روح جس کے بگڑنے سے پورا جسم بگڑتا ہے وہ اسرارِ الٰہیہ میں سے ایک رازہے ،ہم نے اس کی وضاحت نہیں کی اور نہ ہی اس کی وضاحت کی اجازت ہے ۔ہم صرف اتنا کہہ سکتے ہیں کہ وہ اَمْرِربَّانی ہے جیساکہ باری تعالیٰ نے سَیِّدِعالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے فرمایا:
قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ (پ۱۵،بنی اسرائیل:۸۵)
ترجمۂ کنز الایمان:تم فرماؤ روح میرے ربّ کےحکم سے ایک چیزہے۔
عقل اورامرربّانی :
عقل امْرِ رَبَّانی کے کسی بھی وصف کوسمجھ نہیں سکتی بلکہ اس سلسلے میں اکثر لوگوں کی عقلیں حیران و پریشان ہیں نیزجس طرح ہم آنکھ سے آواز کا ادراک نہیں کرسکتےاسی طرح وہم و گمان سے بھی امْرِربَّانی کونہیں سمجھ سکتے۔اَلْغَرَض عقل جو ہروعرض کامجموعہ ہےاسی لئے اس کے ذریعےامْرِربّانی کے کسی بھی وصف کو نہیں سمجھا جاسکتا بلکہ اس کا ادراک عقل سے اعلیٰ و اشرف ایک نورسے ہوتاہے جو عالَمِ نَبوت اورعالَمِ وِلایت کےساتھ خاص ہےجس طرح عقل کامقام وہم وگمان سے اعلیٰ ہے اسی طرح اس نورِنبوت وولایت کامقام عقل سے اعلیٰ ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یکساں مخلوق پیدانہیں فرمائی لہٰذا بچہ صرف حِسّی چیزوں کوپہچانتاہے اور وہ ابھی اس مرتبےکو نہیں پہنچا ہوتاہے کہ عقلی باتیں سمجھے۔بالغ عقلی باتوں کوتو سمجھ جاتا ہے لیکن عقل سے بالا تر بات نہیں سمجھ سکتا کیونکہ اس میں عقل سے بالا تر بات سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہوتی ۔عقل سے بالا تر بات سمجھنا ایک بُزرگی والامقام اور بلند رتبہ ہے۔اس مقام پر فائز ہستی حق تعالیٰ کو ایمان و یقین کے نور سے دیکھتی ہے۔یہ ایک بلندمقام ہے کہ ہرایک اس تک نہیں پہنچ پاتا بلکہ مخصوص حضرات اس تک پہنچتے ہیں۔بارگاہِ حق گویاایک صدر مقام ہے جس میں ایک وسیع میدان ہے اور میدان سے پہلے ایک چبوتراہے جو امْرِ ربانی کا ٹھکاناہے۔جوشخص اس چبوترے یا اس کےمحافظ تک نہیں پہنچ سکتاوہ نہ تومیدان میں پہنچ سکتانہ ہی اس میدان میں پائے جانےوالےمشاہداتِ عالیہ تک پہنچ سکتاچنانچہ اسی کے پیشِ نظر کہا جاتاہےکہ ”جو