میں تاریکی چھا جاتی ہے اور روح سے حاصل ہونے والے انواریعنی اِحساسات ،قُدرت وارادہ اورلفظ ِ حیات میں شامل تمام اُمورجسم سے جُدا ہوجاتے ہیں۔روح اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں اور اس کی صنعت وحکمت کے عجائبات کی جانب ایک مختصر سااشارہ ہے تاکہ معلوم ہوجائے:
لَوْ کَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّکَلِمٰتِ رَبِّیۡ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنۡ تَنۡفَدَ کَلِمٰتُ رَبِّیۡ (پ۱۶،الکھف:۱۰۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لئے سیاہی ہوتو ضرور سمندر ختم ہوجائے گا اور میرے ربّ کی باتیں ختم نہ ہوں گی۔
تو جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے وُجود کا منکر ہے اس کے لئے ہلاکت ہے اورجو اس کی نعمت کا ناشکرا ہے اس پر خوب پِھٹکار ہے۔
ایک سُوال اور اس کا جواب:
آپ نے روح کا ذکر مثال ووضاحت کے ساتھ کیاجبکہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے رُوح کے بارے میں سوال ہواتو آپ نے فقط اتنا فرمایا(1):” قُلِ الرُّوۡحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیۡ (2)اور اس کی وضاحت نہ فرمائی توآپ نے اس کی وضاحت کیوں فرمائی؟
جواب :لفظ ”روح“ کئی معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے،اس کے معانی سے بے خَبَری کی وجہ سے ہی یہ اعتراض کیاگیا ہے۔ہم نے اس کے تمام معانی مرادنہیں لئے بلکہ ایک معنیٰ مرادلیاہے۔وہ مرادی معنیٰ غیر مادِّی جوہرہے جسے اَطِبَّا” رُوح “کہتے ہیں۔ اَطِبَّانے اس کی صفت،اس کاوُجو ،اعضاء میں اس کے جاری ہونے کی کیفیت ،اس کے ذریعے اعضاء میں احساس اور قوت کی کیفیت مرادلی ہے حتّٰی کہ جب کوئی عضو بے حِس ہوجائے توانہیں پتا چل جاتاہے کہ یہ بے حِسی روح کے راستوں میں رکاوٹ پیداہونے کی وجہ سے ہے لہٰذا وہ بے حِس مقام کا علاج نہیں کرتے بلکہ پٹھوں کے مراکز کا پتا چلاتے ہیں کیونکہ رکاوٹ کے مقامات وہی مراکز ہوتے ہیں پھررکاوٹ ختم کرنے کے لئےعلاج کرتے ہیں۔ روح کی یہ قسم اپنی لطافت کی وجہ سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری، کتاب التفسیر، باب ویسئلونک عن الروح،۳/ ۲۶۳،حدیث: ۴۷۲۱
2…تم فرماؤ روح میرے ربّ کےحکم سے ایک چیزہے۔(پ۱۵،بنی اسرائیل:۸۵)