Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
340 - 882
 اَخلاط ِاَرْبَعَہ (یعنی صفرا،خون ،بلغم اورجلےہوئےبلغم) سے نکلنے والےایک غیر مادِّی جوہرسے قائم کررکھا ہےجس کا ٹھکانا دل ہے ۔یہ غیر مادِّی جوہر رَگوں کے ذریعے  پورے جسم میں سرایت کرتا ہے ،یہ جسم کے جس حصے  میں پہنچتا ہے اس میں حِس و ادراک اور قوت وحرکت پیدا  ہوجاتی ہے۔یہ چراغ کی طرح ہےکہ اسے  گھر میں جہاں پھرایا جائے وہاں روشنی ہوگی گویاروشنی کاسبب یہی چراغ ہے۔روشنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی مخلوق ہے مگر اُس نے چراغ کواپنی حکمت سےروشنی کا سبب بنادیا ہے اسی طرح یہ غیر مادّی جوہربھی حِس و ادراک اور قوت وحرکت کاایک سبب ہے جِسے طبیب حضرات ”روح “ کا نام دیتے ہیں جس کاٹھکانا دل ہے۔
روح کوچراغ کے ساتھ تشبیہ دینےکی وجہ :
	جسم روح کےلئے چراغ کی آگ کی طرح ہے،دل آلَۂ چراغ جیساہے،دل میں موجودسیاہ خون گویاچراغ کی بتی ہے اور غذا چراغ کے تیل کی مانندہے۔تمام جسمانی اعضاء میں روح کے سبب پائی جانے والی ظاہری حیات چراغ کی اُس روشنی کی مثل ہے جو تمام گھر کوروشن کرتی ہے۔دیکھئے!جس طرح چراغ تیل ختم ہونے سے بجھ جاتا ہے اسی طرح روح کا چراغ بھی غذا بند ہونے سے بجھ جاتا ہے۔جس طرح چراغ کی بتی راکھ  ہوجائے توچراغ کثیر تیل کے باوجو دفائدہ نہیں دیتا اسی طرح دل میں موجودسیاہ خون بعض اوقات حرارتِ قلبی کی وجہ سے جل جاتا ہے اورروح غذا ملنے کے باوُجود بے کارہوجاتی ہے کیونکہ روح کو بقا دینےوالادل میں موجودسیاہ خون غذاقبول نہیں  کرتاجیساکہ راکھ فقط  تیل سے  روشنی پیدا نہیں کرپاتی ۔
	چراغ بعض اوقات  بیان کردہ  داخلی سبب سے بجھ جاتا ہےاوربعض اوقات خارجی سبب سے بھی بجھتا ہے جیسے تیز ہوا چلنےسے۔اسی طرح رُوح بھی کبھی داخلی سبب سے جسم سے جداہوتی ہے اور کبھی خارجی سبب سے جیسے قتل وغیرہ۔تیل کے ختم ہونے، بتی کے خراب ہوجانے،آندھی کے چلنےسے چراغ کا بجھنایا کسی انسان کا چراغ کو بجھادینا یہ سب کچھ تقدیر کے مطابق ہوتا ہےاور  تمام اَسباب کا حقیقی علم  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو ہوتا ہے ۔انسانی روح کے جسم سے جداہونے کا معاملہ بھی ایساہی ہےنیزجس طرح چراغ کا بجھ جانا اس کاانتہائی  وقت اورلوحِ محفوظ میں لکھی آخری  مدت ہے اسی طرح رُوح کے جسم سے جداہونے کامعاملہ ہے۔جس طرح چراغ کے بجھنے سے تمام گھر میں اندھیرا چھا جا جاتا ہے اسی طرح رُوح کےنکلنے سے تمام جسم