Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
34 - 882
	آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا اس پتھر کو پھینک دینااس دُنیاوی فائدہ سے رُجُوع (توبہ) کرنا تھا۔ تم کیا سمجھتے ہوکہ حضرت سیِّدُنا عیسٰی عَلَیْہِ السَّلَام یہ نہیں جانتے تھے کہ عوام کے فتاوی کے مطابق  زمین پر سر رکھنا واجب نہیں ہے!
نماز میں خشوع وخضوع کا اعلیٰ ترین درجہ:
	کیا تمہیں معلوم نہیں کہ جب نماز میں حُضُورنبیّ پاک،صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توجہ پھول دار کپڑے کے سبب بٹی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اسے اُتار دیا۔اسی طرح ایک بار نعلین شریف کے نئے تسمے نے توجہ بٹائی تو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوبارہ پُراناتَسْمَہ لگا لیا۔تو کیا حُضُور رحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو علم نہیں تھا کہ تمام بندوں کے لئے لائی ہوئی میری اس شریعت میں ایسا کرنا واجب نہیں؟ہرگز نہیں بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ضرورجانتے تھے۔ اس علم کے باوجود آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے تَرْک کرکے رُجُوع کیوں فرمایا؟ صرف اس لئے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ملاحظہ فرمالیا تھا کہ یہ (پھول دار کپڑااور نیاتسمہ)آپ کے قلب اطہر پر ایسا اثر کر رہا ہے جو اس مقام محمود تک پہنچنے میں رکاوٹ ہے جس کا آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے وعد ہ فرمایا گیا ہے۔
حلق میں انگلی ڈال کر دودھ نکال دیا:
	کیا تم نہیں جانتے کہ ایک بارامیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دودھ نو ش فرمایا بعد کو معلوم ہواکہ یہ دودھ ناجائز طریقے پر حاصل کیا گیا ہے توانہوں نے حلق میں انگلی ڈال کر اسے نکال دیا، قریب تھا کہ اس عمل سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی جان چلی جاتی۔ کیا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو یہ فقہی مسئلہ معلوم نہ تھا کہ ناواقفی میں ایسی شے کھالینے سے بندہ گناہ گار نہیں ہوتا اور ازروئے فقہ اسے پیٹ سے باہر نکالنا واجب نہیں ہوتا! مسئلہ معلوم ہونے کے باوجود معدے کو اس سے خالی کرکے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ممکنہ حد تک اس کی تلافی وتدارُک کے ذریعے یہ رُجوع کیوں فرمایا؟ صرف اس رازکی حفاظت کے لئے جوآپ کے مُقَدَّس سینہ میں قرار پکڑچکاتھا۔ اس راز سے آپ کو یہ معرفت ملی کہ عوام کے نزدیک جو فتوٰی ہے وہ دوسری بات ہے۔ راہِ آخرت کے خطرات سے صرف صدیقین ہی واقف ہو تے ہیں۔