میں بھی کام آتے ہیں بلکہ انسانی جسم میں کئی ہزار مختلف چھوٹے بڑے،موٹےپتلے پٹھے اوررگیں موجود ہیں اَلْغَرَض !جسم کابڑے سے بڑاچھوٹےسے چھوٹاکوئی ایساحصہ نہیں جس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بے شمارحکمتیں نہ ہوں اور یہ سب ہم پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں ہیں۔
سیِّدُنااِمامِ غزالیعَلَیْہِ الرَّحْمَہکی نصیحت:
اےمیرے کمزور بھائیو!اگر ان میں سے کوئی مُتَحَرِّک رَگ رُک جائےیا ساکن رَگ متحرک ہوجائے تو ہم ہلاک ہوجائیں گے۔ہمیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں پر غور کرناچاہئےتاکہ شکر کرنا آسان ہوجائےاور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں تو بے شمارہیں لیکن اگر آپ فقط ایک ہی نعمت یعنی کھانے پر غور کریں گے نیز اس میں بھی صرف اسی چیز کو مدِّ نظر رکھیں گے کہ بھوک لگے تو کھانا کھالیاجائے توآپ میں اورگدھے میں فرق کیارہ جائے گا ؟کیونکہ یہ بات تو گدھا بھی جانتا ہے کہ بھوک لگے تو کچھ کھالو ،بوجھ اٹھاکرتھک جاؤ توآرام کرلو، شہوت آئےتو جُفْتی کرلو اور کسی کام کے لئے اٹھایا جائے تو دولَتِّیاں مارتے ہوئے اٹھ جاؤ۔ اگرآپ بھی اتناہی جانیں جتنا گدھاجانتا ہے تو کس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں گے؟
ہم نے مختصراً جس بات کی طرف اشارہ کیا ہے یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتوں کے وسیع تر سمندر کا فقط ایک قطرہ ہے۔جو کچھ ہم نے طوالت کے ڈر سےبیان نہیں کیا اُس کااندازہ بھی اسی کی روشنی میں لگالیاجائےجن نعمتوں کاہم نے ذکر کیایالوگوں کو معلوم ہیں اگر اِنہیں اُن نعمتوں کے مقابلے میں رکھ کردیکھاجائے جن نعمتوں کاہم نے ذکر نہیں کیایالوگوں کو معلوم نہیں تو وہ نعمتوں کے سمندر کا ایک معمولی سا قطرہ نظر آئے گا مگر جو لوگ نعمتوں کے اس سمندر سے تھوڑا بہت بھی واقف ہیں وہ اس فرمان الٰہی: وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوۡہَا (پ۱۴،النحل:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراگر اللہ کی نعمتیں گِنو تو شمار نہ کرسکو گے۔
کے کچھ نہ کچھ معانی جان جاتےہیں ۔
روح کی نعمت:
غور فرمائیے!اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کس طرح ان اعضاء کانِظام،ان کے منافع ،اِدراک وقوت کا دارومدار