صفراوِی بیماریاں پیداہوتی ہیں مثلاً:یَرقان،پھنسیاں ،سُرخ دانے وغیرہ۔ اگر تِلی متاثرہوجائےتو سوداوِی مادے جذب نہیں کرتی اورسوداوِی امراض پیدا ہوجاتے ہیں جیسےبَرص،جُذام،مالِیْخُوْلِیا(1)وغیرہ اور اگر گردے زائد رطوبت جذب نہ کریں تو اِستِسقا(2) وغیرہ بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ربِّ حکیم عَزَّ وَجَلَّ کی حکمت دیکھئے!اس نے کس طرح ان تینوں(یعنی صفراوی،سوداوِی اور بلغمی) فاسد مادوں میں بھی جسمانی فوائد وَدِیعت کردیئے۔ پِتاایک رَ گ سے فُضْلات کھینچتا ہے اور دوسری رگ سے اُسے آنتوں میں ڈال دیتا ہے تاکہ آنتوں میں چکناہٹ پید اہواور غذا کی آمدورفت سہولت سے چلتی رہےنیزآنتوں میں جلن پیدا ہوجائےجس سے طبیعت قضائے حاجت کا تقاضا کرے اور چکناہٹ کےسبب فضلات جلد نکلیں اور انسانی فضلے میں زردی کی وجہ صفراوِی مادہ ہی ہوتا ہے۔تِلی سےنکلنے والے فاضل مادے میں تلی کے اثرات سے کھٹاس اور جماؤ پیداہوجاتا ہے۔یہ اجزاء روزانہ کچھ نہ کچھ معدے کے منہ تک پہنچتے ہیں اورکھٹاس کے باعث بھوک کی خواہش پیداکرتے ہیں، باقی فاسداَجزاء پاخانے کے ساتھ باہر آجاتے ہیں۔گردےفقط خون کی رَطوبت سے غذائیت حاصل کرتے ہیں ،بَقِیَّہ دیگر رطوبتیں مثانے کی طرف منتقل کردیتےہیں ۔اسی کے ساتھ ہم کھانے پینے کےلئےتیارکردہ اَسباب اور ان سے مُتعلقہ نعَمتِ الٰہیہ کے بیان کااختتام کرتے ہیں۔
اگر ہم جسْمِ انسانی کی مزید تفصیل میں جائیں تو گفتگوطویل ہوجائےگی مثلاًجگر کو دل و دماغ کی حاجت نیزان تینوں اعضائے رئیسہ کا آپس میں ایک دوسرے کامحتاج ہونا،دل سے بے شمار رگوں کا نکلنا،ان رگوں کاتمام جسم میں پھیلاہوا ہونا،انہی کےذریعے اعضاء میں اِ حساس کا پایاجانا،جگر سے بھی بہت ساری رگوں کا نکلنا،انہی کے ذریعے تمام بدن میں غذا منتقل ہونا،اعضاء کی نشوونَماہونا،رطوبتیں نکلنا،ہڈیوں، پٹھوں ، رگوں، جوڑوں وغیرہ کی تعداد بیان کرنا۔
کوئی عضو حکمت سے خالی نہیں :
غذا کے سلسلے میں جسم کے ہرہرعضو کی ضرورت پڑتی ہےنیزیہ اعضاءغذا کے علاوہ دیگرمقاصد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ایک قسم کا جنون۔
2…ایک قسم کی بیماری جس میں پیٹ بڑھ جاتا ہے۔