پِتَّااورتلی کا فائدہ:
جسم کامزاج دُرُست رکھنے کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پِتَّا اور تِلی پیدا فرمائے ہیں نیزان دونوں کو لمبی رگیں عطا کی ہیں تاکہ یہ جگر تک پہنچ جائیں۔پتا صفراوی مادہ جذب کرتا ہے او ر تِلی سوداوِی مادہ جذب کرتی ہے۔ اس عمل کے دوران صاف خون رہ جاتا ہے جس میں پتلا پن اور رَطوبت ہی رَطوبت ہوتی ہے کیونکہ فاسد اجزاء کے اِخراج کے بعد اس میں فقط مائع والا وصف باقی رہ جاتا ہے۔
گردے کا فائدہ:
اگر خون پتلانہ ہو تو جسم میں پھیلی ہوئی باریک رگوں میں گردش نہ کرےاور نہ ہی دیگر اعضاء میں منتقل ہوسکے تواس عمل کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دوگردے پیدا کئے۔ان دونوں کو بھی جگر تک پہنچنےوالی لمبی رَگیں عطا کی ہیں۔یہ بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حکمتوں کاعجوبہ ہیں کہ ان دونوں کی رگیں جگر کے اندر داخل نہیں ہوتیں بلکہ جگر کے اوپر نکلی ہوئی رگوں سے ملی ہوتی ہیں تاکہ گردے خون کی رطوبت کو اسی وقت جذب کرلیں جب وہ جگر کی باریک رگوں سے باہر نکلے کیونکہ اگر وہ پہلے جذب کریں تو خون گاڑھا ہوجائے گا اور رگوں سے نکل نہیں پائے گا۔رطوبت کےجذب ہونے کےساتھ ہی غذا کوخراب کرنےوالے تینوں فاضل مادے نکل جاتے ہیں اورخالص خون باقی رہ جاتا ہے ۔
رگوں کا فائدہ:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جگر سے بہت سی رگیں نکالی ہیں۔ان کی بہت ساری قسمیں ہیں اور ہر ایک قسم کئی کئی شُعْبوں میں بٹی ہوئی ہے۔ان رگوں کا جال پورے جسم میں سر سے پاؤں تک ظاہری وباطنی طور پر پھیلا ہوا ہے۔جگر سے صاف خون ان رگوں کے ذریعے تمام اعضاءمیں منتقل ہوتا ہے حتّٰی کہ بعض مُنْقَسِم رگیں اتنی باریک ہوجاتی ہیں کہ دکھائی نہیں دیتیں جس طرح درختوں اورپتوں کے ریشے آنکھوں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ،انہی رگوں سے غذااُترکر تمام اعضاء تک پہنچتی ہے۔
پِتَّا،تلی اورگردے کے مزید فوائد:
اگر پتا میں کوئی بیماری پیدا ہوجائےتو وہ صَفراوی مادہ جذب نہیں کرتایوں خون خراب ہوجاتا ہے اور