جس کے بالائی حصے غذا وُصول کرنے کے لئے پھیلتے اور پھر سُکَڑکر تنگ ہوجاتےہیں تاکہ غذا اُلَٹ پُلَٹ ہوجائےاورکھانے کی نالی کے ذریعے معدے میں پہنچ جائے۔
معدہ کا فائدہ:
جب غذااس اندازمیں معدے تک پہنچتی ہے تواس میں گوشت ، ہڈیاں اور خون بننےکی صلاحیت نہیں ہوتی بلکہ اسے مکمل طور پر پکانے والی چیز کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اس کے اجزاء ایک جیسے ہوجائیں۔اس مقصد کی تکمیل کے لئےاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے معدے کو ہانڈی کی طرح بنایا،غذاپہنچنےکے بعدمعدہ بند ہوجاتا ہے اور اس وقت تک نہیں کھلتا جب تک ہضم اور پکنے کا عمل مکمل نہ ہوجائے۔جس طرح ہانڈی میں موجود اشیاء آگ کی حرارت سےخَلْط مَلْط ہوجاتی ہیں اسی طرح معدہ میں غذا اطراف میں موجود اعضاء مثلاً: جگر،تلی، چربی اور پیٹھ کے گوشت وغیرہ کی حرارت سے پک کرمائع کی شکل اختیارکرلیتی ہے۔یہ مائع غذاجَو کے پانی کے مُشابِہ ہوتی ہے اور رَگوں میں گردش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہےلیکن ابھی تک یہ غذائیت اوربدن کا حصہ بننےکی صلاحیت نہیں رکھتی۔
جگر کا فائدہ:
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے معدے سے جگر تک رگوں کے ذریعے چند راستے بنائے ہیں اور ان کے لئے بہت سے منہ رکھے ہیں جن کے ذریعے وہ مائع غذاجگر میں منتقل ہوجاتی ہے۔ جگر گاڑھے خون سے بنا یاگیاہے گویا یہ خون ہی ہوتاہے۔جگر میں بہت سی باریک رگیں پھیلی ہوئی ہیں،وہ مائع غذاان رگوں کے ذریعے پورے جگرمیں پھیل جاتی ہے پھر جگر اس پر غالب آ کر اسےاپنے رنگ میں رنگ کرخون بنادیتا ہے اور یہ غذا خون بن کر کچھ دیر جگر میں ٹھہرتی ہے تا کہ دوسری بارپک کر بدن کی غذابننے کے لئےصاف خون میں تبدیل ہو جائے مگر اس عمل کے نتیجے میں دوفاضل مادے پیداہوتے ہیں جیساکہ عموماً مائع چیزکو پکاتے وقت کچھ نہ کچھ فاضل مادہ پیداہوتا ہے۔ ایک مادہ گَدلاپانی کی طرح ہوتا ہے جسے ”سوداوِی“ کہتے ہیں۔دوسرامادہ دودھ کے جھاگ کی طرح ہوتا ہے جسے”صَفراوی“ کہتے ہیں۔ اگر یہ دونوں فاضل مادے خون سے الگ نہ ہوں تو جسم کا مزاج خراب ہوجائے۔