Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :4)
335 - 882
زبان  کے فوائد:
	انسان غذاکو اپنے منہ میں رکھ تو سکتاہے مگرچونکہ دانتوں میں غذاکو اپنی طرف کھینچنےکی طا قت نہیں ہوتی توغذا دانتوں سے کیسے چبائی جائے؟ نیز بار بار انگلی منہ میں ڈال کرغذا اِدھر اُدھر کرنابھی دشوار عمل ہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے احسان کومُلاحَظہ فرمائیے!اس نے زبان کی نعمت سے بھی نوازا جو غذا چبانے کے دوران منہ کےاندرگھومتی ہےاورتھوڑی تھوڑی غذادانتوں کےحوالے کرتی ہے جیسےچکی میں دانے یکبارگی نہیں  ڈالے جاتے بلکہ  تھوڑے تھوڑے کر کےڈالے جاتے ہیں تاکہ  بآسانی پیس لئےجائیں۔یہ زبان کاایک فائدہ تھانیزاس کے علاوہ بھی زبان کے بے شمار فائدے ہیں مثلاً: اپنے مقصد کو بیان کرنے کے لئے قوّت ِگویائی وغیرہ ۔زبان کی تخلیق میں اَوربھی بہت ساری  حکمتیں موجود ہیں چونکہ یہ مقام ان کے ذکر کا نہیں اسی لئے ہم انہیں ذکر نہیں کرتے ۔
زبان میں موجودلُعاب کافائدہ :
	بالفرض غذا خشک ہو،اسے کَترنے اورچبانے کے بعد جب تک تَرنہ کرلیاجائے حلق سے پیٹ میں داخل نہیں کیاجاسکتا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس کام کی تکمیل کے لئےزبان کے نیچے ایک چشمہ  بنایاجس سے لعاب بہتاہے۔یہ لعاب خشک غذا میں بقدرِ ضرورت مل جاتاہے یہاں تک کہ غذا تر ہوجاتی ہے۔
	غورفرمائیےکہاللہعَزَّوَجَلَّنےلعاب کوانسان کی خدمت کےلئےکس طرح پابند کردیا کہ غذاپرنظر پڑنے کے بعد جب منہ کھولتا ہے منہ لعاب سے تَر ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات کھانا سامنے آنے سے پہلےہی لعاب سے ہونٹوں کاکنارہ ترہوجاتا ہے۔
معدہ تک غذا  کیسے پہچنتی ہے ؟
	 چبائی ہوئی غذا لعاب سے تربترہو جانے کے بعدمعدے تک کیسے پہنچائی جائے؟غذاکوہاتھ سےمعدہ میں ڈالناممکن نہیں کیونکہ  معدہ پیٹ میں ہوتا ہے اور نہ ہی معدے میں کوئی ایساآلہ ہے جو آگے بڑھ کر غذا اپنے اندر کھینچ لے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےمعدہ میں غذا پہنچانےکےلئےکھانے پینےاور سانس کی نالی  پیدا فرمائی