منہ کے فوائد:
اب انسان غذا کی نعمت کو ہاتھ سے پکڑ توسکتاہے مگر اس سے فائدہ نہیں اٹھاسکتاجب تک کہ اسے معدہ میں نہ پہنچائےلہٰذا اسے ایک ایسے ظاہری راستے کی ضرورت پڑی جس سے غذا معدہ تک پہنچ سکے پس اللہ عَزَّوَجَلَّ نے منہ کو راستہ بنادیاتاکہ انسان معدہ تک غذاپہنچا سکے،منہ صرف معدے تک غذاپہنچانےہی میں مددگار نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی اس کے بے شمار فائدےاور حکمتیں ہیں نیزغذاکو معدے تک پہنچانے کے لئےنِگل جانا چونکہ دُشوار عمل تھا لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے منہ میں دوہڈیوں سےجبڑے بناکر ان میں دانت پیدا فرمادیئے تاکہ غذا کو چبا کر باریک کرلیاجائے۔اوپر نیچےداڑھ پیداکرکےاوپروالے دانتوں کو نچلے دانتوں کے مُوافِق اور برابر کیا تاکہ غذاچبانے میں آسانی ہو۔غذاکی مختلف قسمیں ہوتی ہیں مثلاًبعض توڑکر، بعض کاٹ کر،بعض چباکرکھائی جاتی ہیں۔ تینوں مقاصد پورے کرنے کےلئے تین قسم کے دانت بنائےجیساکہ چبانے کے لئےاَضراس یعنی داڑھ کےدانت،کاٹ کر کھانے کے لئے رُباعیات یعنی سامنے کے دانت بنائے،توڑکر کھانے کے لئےانیاب یعنی رُباعیات کے ساتھ والے دانت بنائےنیز جبڑوں کے جوڑوں کو آپس میں پیوست نہ کیا تاکہ نچلاحصہ آگے پیچھے ہوسکے اور اوپر والے حصے پرچکی کی طرح گھوم سکے۔اگرجبڑوں کواس طرح نہ بنایا جاتا تودونوں آپس میں تالی بجانے کی طرح ٹکراتےاور دانتوں کی تخلیق کامقصد حاصل نہ ہوپاتا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنےانسان کےمقصد کوپوراکرنے کے لئےنیچے والے جبڑے کو چکی کی طرح متحرک رکھااور اوپر والا جبڑا اپنی جگہ ساکن رکھا۔
قدرتِ باری تعالیٰ کے عجائب :
مُلاحَظہ فرمائیے!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت میں کیسے کیسےعجائبات ہیں۔انسانوں نے جوچکی بنائی ہے اس کا نچلا پتھر ٹھہرا رہتا ہے اور اوپر والا پتھر حرکت کرتاہےلیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جبڑے کو چکی کی مثل اس طرح بنایاکہ اس کا نچلاحصہ حرکت کرتا ہے اور اوپر والا ٹھہرا رہتا ہے۔سُبْحٰنَ اللہ!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت وشان کس قدر عظیم ہے، اس کی بادشاہی کتنی غالب ہے،اس کے دلائل و برہان کس قدر کامل ہیں اوراس کےاحسان کادائرہ کتنا وسیع ہے۔